تحریر: م۔ ہاشم

ہر انسان کی زندگي میں نشیب و فراز آتے ہیں، کسی کی زندگي میں کم اور کسی کی زندگي میں زیادہ ۔ زندگی کے نشیب و فراز کے دوران ہی انسان کو ایسے مسائل اور تلخ حادثات و واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اس کی صحت کے لئے بھی مضر ثابت ہوتے ہیں۔ بعض تلخ حادثات و واقعات اور مسائل انسان کی جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ اس کی دماغی صحت کو بھی متاثر کرتے ہیں اور پھر وہ ذہنی و نفسیاتی مریض ہوجاتا ہے۔ ڈپریشن (یا ذہنی تناؤ) بھی ایک نفسیاتی مرض ہے اور یہ مرض دنیا میں بڑی تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے نیز دنیا میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد اس مرض میں مبتلا ہے۔ اسی بات کے پیش نظر عالمی ادارۂ صحت، ڈبلیوایچ او نے خاص طور سے اس سال عالمی پیمانے پر لوگوں کی توجہ اس سنگین بیماری کی طرف مبذول کروائي ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کی طرف سے ہر سال 7 اپریل کو عالمی پیمانے پر یوم صحت منایا جاتا ہے اور ہر سال کا ایک مخصوص موضوع ہوتا ہے۔ 7 اپریل 2017ع کو منائے جانے والے عالمی یوم صحت کا موضوع ڈپریشن تھا۔ 1948ع میں ڈبلیوایچ او نے ہر سال عالمی یوم صحت منانے کا فیصلہ کیا تھا اور 1950ع سے ہر سال 7 اپریل کو عالمی یوم صحت منایا جاتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا میں ہر تیسرا شخص ڈپریشن کا شکار ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2006ع سے 2015ع کے درمیان دنیا میں ڈپریشن میں مبتلا افراد کی تعداد میں 18 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ڈپریشن میں مبتلا ہونے والے افراد کی تعداد پوری دنیا میں کتنی زیادہ ہے۔ ڈپریشن کا شکار افراد کی تعداد بہت زیادہ ہونے کی بنا پر ہی ڈبلیوایچ او کو اس سال کے یوم صحت پر ڈپریشن کو موضوع بنانا ناگزیر ہوگيا۔ بتایا جاتا ہے کہ دنیا میں اموات کی دوسری بڑی وجہ خودکشی ہے جس کا سبب ڈپریشن ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈپریشن میں اضافے کے اسباب میں بدامنی، بے روزگاری اور مہنگائی بھی ہوسکتی ہے۔

ڈپریشن کی علامات میں اداسی، افسردگي، مایوسی، تنہائي پسندی، منفی و باطل خیالات، نیند کی کمی، کسی بھی کام میں عدم دلچسپی اور بیزاری وغیرہ شامل ہیں۔ ویسے تو تقریباً ہر انسان کی زندگی میں اداسی، افسردگی اور مایوسی وغیرہ کا گزر ہوتا ہے لیکن عارضی طور پر ایسی حالت پیدا ہونے کا مطلب ڈپریشن نہیں ہوتا بلکہ ایسی حالت لمبے عرصے تک جاری رہے تو اسے ڈپریشن کہا جائے گا۔ پھر بھی صحیح تشخیص متعلقہ معالج سے رجوع کرنے سے ہی پتہ چل سکتی ہے اور لمبے عرصے تک ایسی حالت جاری رہنے پر متعلقہ معالج سے رجوع ضرور کرنا چاہئے نیز مایوس ہرگز نہیں ہونا چاہئے۔

اگر خدا نخواستہ کوئي شخص ڈپریشن میں مبتلا ہوجائے تو کچھ تدابیر اختیار کرکے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ مثلاً:

٭ منفی اور باطل خیالات ذہن سے نکالنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔

٭ ناامیدی اور مایوسی کو ختم کیا جائے اور یہ سوچا جائے کہ ہر مشکل حل ہونے والی ہے۔

٭ (ہر حال میں) اللہ پر توکل ضرور ہو۔

٭ مثبت خیالات رکھے جائیں۔

٭ اپنے آپ کو مشغول رکھنے اور خوش رہنے کی کوشش کی جائے۔

اور ان سب کے ساتھ متعلقہ معالج سے رجوع کرکے اس کی ہدایات پر عمل کیا جائے۔

Apr ۱۳, ۲۰۱۷ ۱۸:۳۷ UTC
کمنٹس