• ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ایک بار پھر مظاہرے

تحریر: م۔ ہاشم

ہزاروں امریکیوں نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ایک بار پھر مظاہرے کیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق واشنگٹن میں دسیوں ہزار امریکیوں نے ماحولیات سے متعلق ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف مظاہرہ کیا۔ وائٹ ہاؤس کے سامنے ہونے والے اس مظاہرے کا مقصد ماحولیات کی تباہی کے بارے میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اقدامات کی مخالفت کا اعلان تھا۔  مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں ایسے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر زمین اور سمندروں کی تباہی اور آب و ہوا کے المیہ سے متعلق انتباہ کے نعرے لکھے ہوئے تھے۔ یہ مظاہرہ ڈونالڈ ٹرمپ کی صدارت کے 100 ویں دن (29 اپریل 2017ع) کو کیا گيا۔

امریکہ کے دیگر شہروں میں بھی ماحولیات کے بارے میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں۔ ان مظاہروں میں ماحولیات سے متعلق ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی مذمت کی گئی اور اس سلسلے میں مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا گيا۔ ادھر کینیڈا کے شہروں میں بھی اسی طرح کے مظاہرے ہونے کی اطلاعات ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پیرس ماحولیاتی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگي کے خواہاں ہیں اور انہوں نے مارچ 2017ء میں ماحولیات کے بارے میں سابق امریکی صدر باراک اوباما کی پالیسیوں پر عمل درآمد کو روکنے کے مقصد سے ایک حکم نامے پر دستخط کئے تھے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ صدارتی انتخابات میں جیت گئے تو امریکہ کو پیرس ماحولیاتی معاہدے میں باقی نہیں رکھیں گے۔ واضح رہے کہ 2015ء میں فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہونے والے ماحولیاتی معاہدے پر 190 سے زیادہ ممالک نے دستخط کئے تھے۔

ٹرمپ حکومت ماحولیات کے بارے میں تحقیقات کے لئے مختص کئے گئے بجٹ کو بھی منقطع کرنا چاہتی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اس سلسلے میں ایک منصوبے کا مسودہ تیار کیا ہے۔ کانگریس میں اس مسودے کی منظوری کی صورت میں ماحولیات کے بارے میں کروڑوں ڈالر کا تحقیقاتی بجٹ منقطع کردیا جائے گا۔ ایسی صورت میں امریکہ کے متعدد تحقیقاتی اداروں کے پاس ماحولیات سے متعلق تحقیقات کے لئے کوئي پیسہ نہیں رہے گا۔

 

May ۰۲, ۲۰۱۷ ۱۹:۰۶ UTC
کمنٹس