تحریر : حسین اختر رضوی

عقل خداوندعالم کی ایک بڑی عظیم نعمت ہے جسے پروردگارعالم نے انسان کو عطا کیا ہے لیکن اگر کوئی شخص اس نعمت کے حصول کے بعد منعم حقیقی کا شکر ادا نہ کرے اور نہ ہی اس کا صحیح استعمال کرے تو اس کو عطا ہونے والی نعمتوں کا سلسلہ ختم ہوجائے گا اور وہ آہستہ آہستہ جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں گم ہوجائے گا یہاں تک کہ قوی امکان پایا جاتا ہے کہ وہ کلی طور پر حق کا انکار کردے۔

 امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام جاہلوں اور جاہلوں کے ذریعے حق کا انکار کئے جانے کے بارے میں فرماتے ہیں: بے شک بیوقوف وہ شخص ہے جو اس چیز کے بارے میں کہ جس کا اسے علم نہیں ہے اپنے آپ کو اس کا جاننے والا سمجھے اور تمام امور میں اپنی رائے اور نظریے کو ہی معتبر جانے اور اسی پر اکتفاء کرے۔ بیوقوف ہمیشہ علمائے آل محمد سے دور بھاگتا ہے اور اگر کوئی اس کے خلاف بات کرتا ہے تو اسے قصوروار شمار کرتا ہے ۔ جب بھی وہ کسی ایسے مطالب سے روبرو ہوتا ہے جو اس کی سمجھ سے باہر ہوتا ہے تو اس کا انکار کردیتا ہے اور اس کی طرف جھوٹ کی نسبت دے دیتا ہے اور حماقت و نادانی کی بناء پر کہتا ہے کہ میں ان چیزوں کو نہیں پہچانتا اور نہ ہی اس پر میرا عقیدہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے نظریہ پر اعتماد کرتا ہے حالانکہ وہ اپنی حماقت و بیوقوفی سے بے خبر ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی حماقت کی وجہ سے ہمیشہ جہالت میں گھرا رہتا ہے اور حق کا انکار کردیتا ہے ۔صرف یہی نہیں بلکہ اپنی حماقت و جہالت کی وجہ سے حیران و سرگردان رہتا ہے اور علم کے حصول میں تکبر سے کام لیتا ہے۔

دین اسلام اور قرآن کریم میں حماقت و جہالت کو بدترین اور ناپسندیدہ صفت سے تعبیر کیا گیا ہے اور مومنین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ علم و معرفت سے استفادہ کرکے نقصان پہنچانے والے امور سے دوری اختیار کریں خصوصا جہل سے کیونکہ جہل اور جہالت نہ صرف یہ کہ انسان کی دنیاوی زندگی میں نقصان دہ ہے بلکہ آخرت میں اس سے زیادہ نقصانات سے دوچار ہوں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ شقاوت و بدبختی اس کا مقدر بن جائے۔ چنانچہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بارے میں فرماتے ہیں: دنیا و آخرت کی بھلائی عقل و دانش میں ہے اور دنیا و آخرت کی خرابی جہالت و حماقت میں ہے۔

 

 

May ۰۹, ۲۰۱۷ ۱۸:۵۴ UTC
کمنٹس