• آل سعود بچوں کے قاتل

انتخاب و تلخیص۔آر اے نقوی

اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر “ارتارن کزن” نے یمن میں بھوک کی وجہ سے لاکھوں افراد کے مرنے کے خطرے سے متنبہ کر دیا ہے، اور یمن میں بھوک سے مقابلے کے لیے فوری امداد کا مطالبہ کر دیا ہے۔

ارتارن کزن نے عمان میں پریس کانفرنس میں کہا کہ 17 ملین یمنی کھانا فراہم کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں اور 7 ملین افراد کے پاس کھانا نہیں ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا کہ یمن کی غذائی ضروریات کو پورا نہیں کیا گیا تو اجتماعی موت کا امکان بڑھ جائے گا۔

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ جولائی سے پہلے 4.4 ارب ڈالر کا بجٹ انسانی آفات سے بچنے کے لیے فراہم کریں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے کچھ ممالک کے ساتھ مل کر یمن پر فوجی حملہ کر دیا تھا اور اس ملک کا زمینی، فضائی، اور سمندری محاصرہ کیا ہوا ہے تاکہ اس ملک کے مفرور صدر عبد ربہ ہادی کو حکومت دلا سکیں۔

اس حملہ کے نتیجہ میں اب تک 12 ہزار یمنی جان بحق اور دسیوں ہزار افراد زخمی ہوگئے ہیں، لاکھوں افراد بے گھر اور اس ملک کا انفراسٹرکچر نابود ہو گیا ہے۔ یونیسف نے سعودی جارحیت کے دو سال پورے ہونے پر عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے حملوں کی سب سے زیادہ قیمت یمن کے بےگناہ بچے ادا کررہے ہیں۔

یونیسف نے یمن پر سعودی حملوں کے بارے میں  ایک رپورٹ میں کہا  ہے کہ سعودی حملوں میں سب سے زیادہ نقصان  اٹھانے والے یمن کے بےگناہ بچے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس وقت یمن کے 10 ملین بچے عالمی امداد کے منتظر ہیں۔ ان میں سے سوا دو ملین بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ 2014 سے اب تک یمنی بچوں کی غذائی قلت میں 200 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ یمن کے قبرستان چھوٹی چھوٹی بے نام و نشان قبروں سے بھرے ہوئے ہیں۔ یمنی بچوں کی موت کا اعلیٰ حکام کو پتہ نہیں چل پاتا ہے۔ دنیا میں کوئی بھی ان کی مظلومیت کو سننے اور دیکھنے والا نہیں ہے۔

یونیسف نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ65 فیصد یمنی عوام (یعنی قریب 17 ملین افراد) فاقہ کشی پر مجبور ہیں اس لیے وہ اپنے بچوں کے لیے بھی اشیائے خورد و نوش فراہم کرنے سے معذور ہیں۔ 80 فیصد یمنی عوام اپنے بچوں کے لیے اشیائے خورد و نوش فراہم کرنے کی وجہ سے مقروض ہوگئے ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سعودی حملوں کی وجہ سے بچوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہوئی ہے اور ہزاروں اسکول سعودی حملوں کے نتیجے میں تباہ ہوچکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2 ملین یمنی بچے تعلیم سے مکمل طور پر محروم ہوچکے ہیں۔

 

Jul ۱۰, ۲۰۱۷ ۱۸:۴۲ UTC
کمنٹس