انتخاب و تلخیص۔آر اے نقوی

یہ واقعہ محض ایک خیال اور تصور نہیں ہے بلکہ یہ کام 2002 میں سعودیہ میں ہو چکا ہے۔

آپ سوچیں کہ اگر آپ اور کچھ خواتین آگ کے درمیان پھنس جائے، اور آپ کو اپنی موت نظر آنے لگے، اور امید کے سارے راستے بند ہو جائیں، اور اسی دوران فائربریگیڈ کی آواز سنیں تو آپ کے دل میں زندگی کی ایک امید پیدا ہو جائے گی، پر اسی دوران کچھ افراد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے نام پر  قرآن اور حدیث کا حوالہ دے کر یہ کہیں کہ خواتین نا محرم ہیں اس لیے ان کو بچانا امدادی ادارے کی ذمہ داری نہیں ہے، ایسے میں خواتین کے پاس جلنے کے علاوہ کوئی چارہ بچ سکےگا؟؟!!!!

دیکھنا یہ ہے کہ سعودی حکومت خواتین کو ایسے معمولی اور ابتدائی حقوق سے کیوں محروم کر رہی ہے؟

21 اپریل 2008 میں انسانی حقوق کے مبصر نے ایک رپورٹ میں کہا کہ سعودیہ نے خواتین کے بارے میں ایک سیاہ تاریخ اپنے پیچھے چھوڑی ہے۔

سعودیہ میں مرد کی حکمرانی کے نظام کے خلاف ہیومن رائٹس کے ادارے نے عالمی اداروں سے اس نظام کے خاتمہ کے لیے سرگرم ہونے کا مطالبہ کیا۔

اس انسانی حقوق کے ادارے نے اس سلسلے میں کچھ ویڈیو اپنے فیس بک اور یوٹیوب پر شیئر کیے ہیں، جن میں سے ایک میں سعودی خاتون ڈاکٹر ایک یونیورسٹی کی دعوت پر علمی تقریب میں اپنے چھوٹے بیٹے کی وجہ سے شرکت نہیں کر سکی۔

دوسری ویڈیو میں ایک قیدی سعودی خاتون نے کہا ہے کہ میری سزا کے ختم ہوئے کئی سال گزر گئے ہیں۔ پر اس کے خاندان والے اسے اپنے خاندان کی بے عزتی سمجھتے ہیں اس لیے اسے قبول نہیں کر رہے ہیں اور وہ اب تک قید میں ہے۔

ان سب مشکلات کے بعد 1981 میں سعودی خواتین نے سرگرم ہونے کا ارادہ کیا جس کے نتیجے میں 1990 میں کئی خواتین نے مل کر ڈرائیونگ کی، جس کے بعد ان کو دبایا گیا اور ان کے مردوں پر بے غیرتی کا الزام لگایا گیا، پر سعودی خواتین نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اس ظلم کو برداشت نہیں کریں گی۔

اکثر ماہرین، سعودیہ میں خواتین کی مشکلات کو مردوں کی حاکمیت  کی وجہ سے سمجھتے ہیں، تاہم ان مظالم کو تقدیر الہی سمجھ کر نہیں ماننا چاہیے، خواتین کو اپنے حقوق کا علم ہونا چاہئے تاکہ جو مرد ان کی گود میں پرورش پائیں،  کل وہ عورت کو کم سے کم انسان  تو سمجھیں۔

 

 

 

 

 

 

     

 

 

 

 

 

Jul ۱۰, ۲۰۱۷ ۱۸:۴۴ UTC
کمنٹس