• داعش کے بعد کیا ہوگا ؟ (1)

انتخاب و تلخیص۔آر اے نقوی

بدنام  زمانہ دہشتگرد تنظیم داعش کا عراق میں آخری گڑھ موصل ان کے ہاتھ سے نکل گیا ہے اور عراقی حکومت اپنی فتح کے اعلان کے ساتھ  فوجی آپریشن کے اختتام کا اعلان کردیا ہے اس اعلان کے ساتھ عراق میں داعش کے مرکزی ٹھکانوں کا باب تقریبا بند  ہوچلا ہے تاہم چھپے دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف عراقی فورسز کی تلاش جاری رہے گی تاکہ امن و امان کی صورت حال مزید بہتر ہوسکے ۔

داعش کی کہانی صرف عراق میں ہی اختتام پذیر نہیں ہورہی ہے بلکہ شام میں بھی اس دہشتگرد تنظیم کے آخری ٹھکانے ’’رقہ‘‘اور اس سے ملحقہ علاقوں میں اس کی وحشیانہ اور بربریت سے بھری  کہانی اختتام کی جانب گامزن ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جوں جوں اس دہشتگرد تنظیم کا اثرو رسوخ عراق اور شام میں ختم ہوتا جارہا ہے تو خطے میں بعض قوتوں کی پریشانی میں اضافہ نظر آرہا ہے ۔

’’شام داعش کے بغیر ‘‘ وہ عنوان ہے جو ان قوتوں کے لئے کافی پریشانی کا باعث دکھائی دیتا ہے ،مشرق وسطی پر گہری نگاہ رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ تل ابیب کے ذرائع کہتے ہیں کہ اسرائیل کے لئے اس وقت سب سے بڑی پریشانی ’’شام داعش کے بغیر‘‘ سناریوسے ہے جس کا وہ برملا اظہار بھی کررہے ہیں۔

معروف صیہونی اخبار ہاآرٹس نے گذشتہ ہفتے جمعرات کے شمارے میں یہ خبر دی ہے کہ ’’اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے روسی صدر پیوٹن سے ٹیلی فونک گفتگو میں اس بات کو لے کر بات چیت کی کہ شام میں اسرائیلی سرحد کے ساتھ جولان کے علاقے میں ’’پرامن علاقوں ‘‘کے قیام کے لئے اسرائیل راضی ہے اور اس میں پیشرفت ہونی چاہیے ‘‘

اسرائیل اپنی سرحد کے ساتھ شام کے اندر ایسے علاقوں کا قیام چاہتا ہے کہ اس میں اس کی اپنی بھی شمولیت رہے تاکہ اس کا سرحدی علاقہ ان قوتوں کے ہاتھوں  نہ چلا جائے جو اسرائیل مخالف ہیں اور جسے مزاحمتی  یا استقامتی بلاک کہا جاتا ہے اور یہ بلاک شام کی حکومت، لبنان کی جماعت حزب اللہ فلسطینی جماعت حماس اور ایران و عراق سے تشکیل پاتا ہے اگرچہ اس بلاک کے عالمی سطح پر چین اور روس بھی حامی سمجھے جاتے ہیں ۔

  اسرائیل کی کوشش یہ ہے کہ اس کی سرحد کے ساتھ شام کے اندر ایسے دو علاقے بنائے جائیں جن کا کنٹرول مشترکہ ہو اورروس، امریکہ  اور اردن اس میں شامل ہوں ۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس بات کو لے کر سخت پریشان تھاکہ شام کی سرکاری فورسز کہیں اس کی سرحد کے ساتھ علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل نہ کرلیں ۔

واضح رہے کہ گذشتہ تقریبا چار سالوں سے  یہ سرحدی علاقہ داعش و دیگر دہشتگردوں کی سپلائی لائن بنا رہا ہے اور یہاں سے مسلسل اسرائیل سے مدد ملتی رہی ہے ۔

اسرائیل کے لئے سب سے بڑی پریشانی اس وقت شروع ہوئی جب عراق اور شام نے اپنا زمینی رابطہ بحال کردیا تھا ،تجزیہ نگار اس زمینی رابطے کو بہت بڑی کامیابی اور گیم چینجر کے نام سے یاد کررہے تھے۔

کیونکہ اس زمینی رابطے کے بعد ایران، عراق، شام، لبنان اور دیگر ممالک تک کا زمینی رابطہ بحال ہوچکا ہے کہ جس میں اردن اور سعودی عرب کے علاوہ شام کے ساحلی شہر لازقیہ کے پورٹ کے توسط سے بحیرہ روم (Mediterran Sea)تک رسائی حاصل ہوجاتی ہے ،ظاہر ہے کہ بحیرہ روم تک رسائی دلانے والا تہران سے دمشق و بیروت تک کا یہ زمینی پل ہر اعتبار سے انتہائی اہم حیثیت رکھتا ہے ۔

 

 

 

 

 

 

Jul ۱۴, ۲۰۱۷ ۲۲:۵۶ UTC
کمنٹس