انتخاب و تلخیص۔آر اے نقوی

العفولہ شہر سے لے کر جنین کی الجملہ گذرگاہ تک شاہراہ کے اسرائیلی منصوبے کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ شام کی بدلتی صورتحال ہے کہ جس میں شام کی سرکاری افواج اپنے اتحادیوں کی مدد سے دن بہ دن ان تمام علاقوں میں اپنا کنٹرول بحال کرنے میں کامیاب ہوتی جارہی ہیں کہ جس پر پہلے مختلف شدت پسند گروہوں کا کنٹرول تھا خاص کر اس سلسلے میں عراق و شام کا سرحدی علاقہ اور اردن و اسرائیل کے ساتھ ملحق علاقہ شامل ہے ۔

تہران سے غزہ تک زمینی پل سے تعبیر کیا جانے والا عراقی شامی سرحدی علاقہ اس وقت اسرائیلی منصوبوں کے آگے سب سے بڑی رکاوٹ ہونے کے ساتھ ساتھ خطے میں اسرائیل مخالف قوت یا مزاحمتی بلاک کی مضبوطی کی بھی ضمانت بن چکا ہے ،ایسے میں داعش دہشتگردوں کا خاتمہ اس بلاک کو مکمل طور پر اگلے اقدامات کی جانب غور فکر کرنے کے لئے آزاد کردے گا ۔

تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اسرائیلی مسلسل اس بات کو لے کر گھبرا رہے ہیں کہ کہیں ’’داعش کے بعد کے شام ‘‘کو امریکہ مکمل طور پر روس ،ایران اور بشار الاسد کے حوالے نہ کردے ،اگرچہ اس وقت زمینی حقائق ایسے ہیں کہ امریکی اس سلسلے میں کسی بھی قسم کا خاطر خواہ نتیجہ حاصل نہیں کرپارہے باوجود اس کے کہ اس کے دوہزار کے قریب فوجی اور بیس ہزار سے زائد حمایت یافتہ مسلح افواج شام میں سرگرم ہیں ۔

کہا جارہا ہے کہ شام کی سرزمین کو ٹرانزٹ کے طور پر قطر بھی اپنی گیس کی ترسیل کے لئے استعمال کرناچاہتا ہے اگرچہ تجزیہ نگار شام کے بحران کے اسباب میں ان تمام منصوبوں کا ذکر کرتے ہیں لیکن ہم طوالت کے پیش نظر ان تمام تھیوریز کو نظر انداز کرتے ہوئے عرب میڈیا میں نشر ہونے والی اس خبر پر اکتفا کرتے ہیں کہ حالیہ قطری سعودی اماراتی بحران کی وجوہات میں سے ایک وجہ قطر کے اسی ٹرانزٹ منصوبے کو قراردیتے ہیں کہ قطر نے اپنی گیس کی یورپ تک ترسیل کی خاطر شامی صدر بشار الاسد کے ساتھ خفیہ ڈیل کی ہے اور اس ڈیل کے بعد قطر نے شام میں ان مسلح گروہوں کی حمایت چھوڑ دی ہے جو اس سے پہلے قطری حمایت حاصل کرتے تھے۔

 

Jul ۱۴, ۲۰۱۷ ۲۳:۰۲ UTC
کمنٹس