• یورپ میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک میں اضافہ

انتخاب و تلخیص: م۔ ہاشم

ایک نئے سروے کے مطابق یورپ میں ناروا اور امتیازی سلوک کا نشانہ بننے والے مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ یورپی یونین کی بنیادی حقوق ایجنسی، ایف آر اے، کے نئے سروے کے مطابق یورپی معاشروں میں ایسے مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جن کے ساتھ مقامی یورپی باشندے ناروا اور امتیازی سلوک کرتے ہیں۔ یورپ میں رہنے والے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ان کے مذہب کی وجہ سے ان کے ساتھ امتیازی رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ یورپی یونین کی بنیادی حقوق ایجنسی، ایف آر اے، نے سنہ 2016ع میں یورپی یونین کے 15 رکن ممالک میں یہ سروے کرایا تھا جس میں یورپی یونین میں مقیم 10500 مہاجر مسلمان شریک تھے۔ سروے رپورٹ مذکورہ ایجنسی نے جمعرات 21 ستمبر کو شائع کی ہے۔ سروے کے مطابق یورپی معاشروں میں ایسے مسلمانوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو غلط اور امتیازی سلوک کا نشانہ بنتے ہیں۔ ایف آر اے کے سروے کے مطابق یورپ میں تقریباً 27 فی صد مسلمانوں نے بتایا کہ امتیازی سلوک کے علاوہ ایذا رسانی کا بھی ان کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

جیسا کہ اس سروے سے پتہ چلتا ہے اسلامو فوبیا یورپ میں مقیم مسلمانوں کے لئے ایک بڑا مسئلہ بن گيا ہے۔ یورپی ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کی حمایت اور اسلامو فوبیا سے مقابلے کے بعض یورپی حکام دعوے تو کرتے ہیں لیکن اس سلسلے میں عملی اقدامات نظر نہیں آتے۔

Sep ۲۳, ۲۰۱۷ ۲۱:۲۵ UTC
کمنٹس