Jun ۰۴, ۲۰۱۹ ۰۲:۰۰ Asia/Tehran
  • آیت کا پیغام (29) : بیج

لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (سورہ بقرہ ۔ آیت 21) ماہ رمضان میں روزانہ ’’مثال کے پیرائے میں‘‘ ایک آیت کی توضیح ملاحظہ فرمائیں!

اگر باغیچے میں پھول کا بیج بویا جائے تو پھول نکل آتا ہے۔

مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمیشہ بیج پھول میں تبدیل نہیں ہوتا۔کیوں کہ پھول نہ نکلنے کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ مگر یہ بات طے ہے کہ اگر پھول چاہئے تو اس کے لئے ہمیں بیج زمین کے حوالے کرنا ہوگا۔بیج بوئے بغیر ہم پھول نہیں اگا سکتے۔پھر جب بیج بو دیا گیا تب بھی اسے بہت سے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر سیلاب یا پیڑ پودھوں کو لگ جانے والی بیماریاں وغیرہ ۔

ہماری عبادتیں بھی ایسی ہی ہیں۔اگر کوئی تقوا و پرہیزگاری کا پھول حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسکا واحد راستہ عبادت و بندگی ہے۔لیکن اگر کسی نے عبادت اور بندگی کی تو ضروری نہیں کہ اسے گل تقوا حاصل ہی ہو جائے۔ کیوں کہ غرور، ریاکاری یا وسط راہ دامن صبر ہاتھ سے چھوٹ جانے وغیرہ جیسے بہت سے خطرات اس کی عبادت کو لاحق ہوتے ہیں۔

کم نہیں وہ لوگ جو ابتدا میں اپنی عبادت و بندگی کی بنا پر پہچانے گئے مگر انکی عاقبت نہ سنور سکی اور وہ گھاٹے میں رہے۔

اس لئے اپنی معنویت و عبادت پر کبھی تکیہ نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ ہم انکی اصل قدر و قیمت سے آگاہ نہیں ہوتے۔ ہم اسے اپنے لئے آخرت کا ذخیرہ سمجھتے ہیں جبکہ اس بات سےغافل ہوتے ہیں کہ ہماری کس قدر عبادتیں غرور، ریاکاری وغیرہ جیسی وبا کی چپیٹ میں آکر تباہ ہوئی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے مختلف شکلوں میں بارہا عبادت  و بندگی کا حکم دینے کے بعد  ارشاد فرمایا ہے:

لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (سورہ بقرہ ۔ آیت 21)

تاکہ شاید تم پرہیزگار بن جاؤ۔

 

تحریر:استاد محمد رضا رنجبر

ترجمہ و ترتیب:سید باقر کاظمی

 

 

ٹیگس

کمنٹس