• عماد مغنیہ کی شہادت کے دس سال

شہید عماد مغنیہ کو حزب اللہ کا مغز متفکر کہا جاتا تھا۔ انہیں چند خطرناک آپریشنز میں کامیابی کے بعد حزب اللہ کی بلند پایہ شخصیات کی حفاظت کرنے والے گارڈز کا کمانڈر بنا دیا گیا۔

عماد مغنیہ جنہیں حاج رضوان کے نام سے جانا پہچانا جاتا تھا دراصل دو انقلابات کے فرزند تھے، ایران کا انقلاب اور فلسطین کا انقلاب۔

شہید عماد مغنیہ کو حزب اللہ کا مغز متفکر کہا جاتا تھا۔ انہیں چند خطرناک آپریشنز میں کامیابی کے بعد حزب اللہ کی بلند پایہ شخصیات کی حفاظت کرنے والے گارڈز کا کمانڈر بنا دیا گیا۔

انہیں گیارہ فروری ۲۰۰۹ کو شام کے علاقے کفر سوسہ میں نشانہ بنایا گیا۔

موساد کا ایک اعلیٰ افسر یوسی کوھن جسے دہشتگردانہ حملوں کا ماسٹر مائنڈ کہا جاتا ہے شہید عماد مغنیہ کو قتل کرنے والی ٹیم کا انچارج تھا۔

 

 

Feb ۱۳, ۲۰۱۸ ۱۰:۴۳ Asia/Tehran
کمنٹس