• سید جمال الدین اسد آبادی

سید جمال الدین اسلامی ممالک اور خاص طور پر شیعہ اور اہل سنت کے درمیان اتحاد کے داعی تھے اس لئے ہمیشہ اپنی قومیت کو چھپاتے تھے اور اپنے دورہ جات کے دوران اپنے پرجوش خطاب سے مسلمانوں کو اتحاد، بھائی چارے اور فاسد اور یورپی استعمار کی حمایت یافتہ حکومتوں کے خلاف قیام کی دعوت دیتے تھے۔

سید جمال الدین اسد آبادی سن ۱۸۳۹ کو ھمدان کے شہر اسد آباد کے ایک متمول گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ تحصیل علم کے لئے قزوین، تہران اور نجف اشرف تشریف لے گئے اور وہاں شیخ انصاری اور ملا حسین علی قلی ھمدانی جیسے بزرگ علمائے کرام کے سامنے زانوئے ادب طے کیا۔ اسکے بعد شیخ انصاری کے حکم پر ھنداوستان تشریف لے گئے تاکہ مسلمانوں کو برطانوی سامراج کے خلاف منظم کر سکیں۔ آپ نے اس راستے میں بے تحاشہ سختیاں اٹھائیں اور اپنے ہدف کے حصول کے لئے عثمانی ممالک، مصر، فرانس، افغانستان، برطانیہ، عراق اور ایران کے دورے کئے۔

سید جمال الدین اسلامی ممالک اور خاص طور پر شیعہ اور اہل سنت کے درمیان اتحاد کے داعی تھے اس لئے ہمیشہ اپنی قومیت کو چھپاتے تھے اور اپنے دورہ جات کے دوران اپنے پرجوش خطاب سے مسلمانوں کو اتحاد، بھائی چارے اور فاسد اور یورپی استعمار کی حمایت یافتہ حکومتوں کے خلاف قیام کی دعوت دیتے تھے۔

اسی لئے ھندوستان، پیرس اور لندن سے ملک بدر کئے گئے اور ناصر الدین شاہ کی کواہش پر اسکے درباہ سے منسلک ہوگئے لیکن جب ناصر الدین شاہ نے انہیں اپنی حکومت کے لئے خطرہ محسوس کیا تو انہیں سلطنت عثمانیہ کے سرحدی علاقے میں بھیج دیا۔

سید جمال الدین نے اسی علاقے سے اس وقت کے بزرگ مرجع تقلید میرزا محمد حسن شیرازی کو خط لکھ کر ناصر الدین شاہ کے دربار میں ہونے والے فساد کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور تحریم تنباکو تحریک ک آغاز کے مقدمات فراہم کئے۔

سید جمال الدین اسد آبادی نے اپنی زندگی کے آخری ایام ترکی میں گذارے اور وہیں پر عثمانی خلیفہ کے حکم پر مارچ ۱۸۹۷ کو انہیں زہر دے کر شہید کر دیا گیا۔

۵۸ سالہ سید جمال کے جنازے میں سوائے چند لوگوں کے کسی کو شرکت کی اجازت نہیں تھی۔ آپ کو ترکی کے شہر استنبول کے ایک قبرستان میں دفن کیا گیا۔ سن ۱۹۴۵ میں ترکی میں افغانستان کے سفیر نے ترکی کی اس وقت کی لائیک حکومت سے سید جمال الدین کی باقیات کو کابل منتقل کرنے کا مطالبہ کیا جسے مان لیا گیا اور یوں اپ کا جسد خاکی ایک تابوت میں بند کر کے کابل لے جایا گیا۔

 

ٹیگس

Mar ۱۰, ۲۰۱۸ ۱۶:۳۴ Asia/Tehran
کمنٹس