Sep ۱۰, ۲۰۱۹ ۰۳:۰۰ Asia/Tehran
  • اعمال عاشورا

حضرت امام حسین علیہ السلام کے یوم شہادت کے موقع پر تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں اور امام محمد باقر علیہ السلام کی حدیث کی روشنی میں اعمال عاشورا بیش خدمت ہے۔

1 - صبح سے عصر کے وقت تک فاقہ سے رہنا ۔
2 - پورا دن حزن وملال میں گزارنا ۔
3 - گریباں چاک کرنا، آستین الٹنا اور سیاہ لباس پہننا۔
4 - ہزار مرتبہ ان الفاظ میں لعنت بھیجنا۔'الھم َالعَن قَتَلَةَ الحسینِ علیہ السلام۔
5 - زیارت عاشورہ پڑھنا۔
زیارت عاشورا کی فضیلت
زیارت عاشورا کی فضیلت میں بے شمار روایتیں وارد ہوئیں ہیں لیکن ہم  صرف ایک روایت زیارت عاشورا کی فضیلت کے سلسلے میں حضرت امام حسین (ع) کے عزاداروں اور عقیدت مندوں کی خدمت پیش کرنے جا رہے ہیں۔ 
مصباح المجتہد نامی کتاب میں شیخ طوسی علیہ الرحمہ محمد بن اسماعیل بن بزیع سے اور وہ صالح بن عقبہ سے اور وہ اپنے بابا سے اور وہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو شخص حسین بن علی (ع) کی عاشورا کے دن زیارت کرے اور ان کی قبر پر بیٹھ کر گریہ کرے قیامت کے دن خدا وند عالم اس کو دو ہزار حج ، دو ہزار عمرہ اور دو ہزار جہاد کا ثواب عطا کرے گا۔ اور وہ بھی وہ حج، عمرہ اور جہاد جو رسول اکرم (ص) اور آئمہ طاہرین (ع) کے ہم رکاب ہوکر انجام دئے ہوں ۔
راوی کہتا ہے کہ میں نے عرض کیا میری جان آپ پر فدا ہو وہ آدمی جو کسی دوسرے شہر یا ملک میں رہتا ہے اور اس دن امام حسین کی قبر مطہر تک نہیں پہنچ سکتا وہ کیا کرے؟
امام نے جواب دیا: اگر ایسا ہو تو صحراء یا اپنے گھر کی چھت پر جائے اور امام حسین (ع) کی قبر کی طرف اشارہ کر کے سلام کرے اور ان کے قاتلوں پر لعنت کرے اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھے اور اس عمل کو ظہر سے پہلے انجام دے اور ان کی مصیبت میں گریہ و زاری کرے اور اگر کسی کا ڈر نہ ہوتو اپنے خاندان والوں کو بھی ان پر رونے کا حکم دے اور اپنے گھر میں مجلس عزا برپا کرے اور سید الشہدا (ع) کو یاد کر کے ایک دوسرے کو تعزیت پیش کرے، میں ضمانت دیتا ہوں جو شخص اس عمل کو انجام دے گا خدا یہ تمام ثواب اسے بھی عطا کرے گا۔ 
راوی نے عرض کہ ایک دوسرے کو کیسے تعزیت پیش کریں؟ 
فرمایا: «أعظم الله أجورنا بمصابنا بالحسين عليه‌السلام و جعلنا و إيّاكم من الطالبين بثاره مع وليه الإمام المهدى من آل محمد عليهم السلام»
ا۔

 

ٹیگس

کمنٹس