• اچھے اور برے اعمال کا فرق

حضرت امیر المومنین علیہ السلام نہج البلاغہ میں اچھے اور برے اعمال میں فرق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

وقال (عليه السلام): شَتَّانَ مَا بَيْنَ عَمَلَيْنِ: عَمَل تَذْهَبُ لَذَّتُهُ وَتَبْقَى تَبِعَتُهُ، وَعَمَلٌ تَذْهَبُ مَؤُونَتُهُ وَيَبْقَى أَجْرُهُ.

 ترجمہ

 ان دونوں قسم کے اعمال میں کتنا فرق ہے ایک وہ عمل جس کی لذت مٹ جائے لیکن اس کا وبال رہ جائے اور ایک وہ جس کی سختی ختم ہوجائے لیکن اس کا اجر وثواب باقی رہے۔

 تشریح:

مولا علی (ع) نے دو طرح کے اعمال کا فرق بیان کیا ہے۔

ایک وہ عمل ہے جو انسان نفس امارہ کی وجہ سے کرتا ہے اور دوسرا وہ عمل جو انسان نفس کے بر خلاف اللہ کو راضی کرنے کے لیے کرتا ہے۔

نفس امارہ کے کہنے پر جس عمل کو انجام دیتا ہے وہ وقتی طور پر مزہ فراہم کرتی ہے لیکن پھر وہ مزہ ختم ہو جاتا ہے اور انسان کی روح آلودہ ہو جاتی ہے اور آخرت کا نقصان الگ نصیب ہوتا ہے۔

اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے جو عمل کرتا ہے وہ اگر چہ وقتی طور پر نفس کے طبیعت پر گراں گزرتا ہے لیکن روح پر بھی اس کے اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور آخرت کی زندگی کا ہمیشہ کا فائدہ الگ نصیب ہوتا ہے۔

 

ٹیگس

Sep ۲۸, ۲۰۱۸ ۰۸:۵۰ Asia/Tehran
کمنٹس