• امام علی رضا علیہ السلام کی مختصر سوانح حیات اور زیارت

صدیوں پہلے ایک بزرگوار نے ایران کی سرزمین پر قدم رکھا تھا، یہ شخصیت اہل بیت پیغمبر میں شامل ہے، اللہ کا نیک بندہ اپنے قدم مبارک سے مہربانی اور رحم کا بے کراں سمندر اپنے ساتھ لایا ۔

صدیوں سے ایران کے عوام ایسی عظیم شخصیت کی میزبانی میں فخر محسوس کر رہے اور روز بہ روزاس عظیم شخصیت کے فیض سے فیضیاب ہو رہے ہيں ۔

آج امام رضا علیہ السلام کا روز شہادت ہے۔ آج ہی کے دن حقیقت پر گامزن اور سچے مؤمنین کا دل غم و الم سے بھر گیا۔ آج مشہد مقدس میں نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا سے زائرین کا امام رضا علیہ السلام کے روضے پر اجتماع ہے۔ لاکھوں عقیدت مند سلام بھیج رہے ہیں اور بلند آواز میں فرما رہے ہیں : السلام علیک یا علی ابن موسی الرضا۔

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت کے بعد ان کے فرزند امام رضا علیہ السلام نے عوام کی ہدایت کی ذمہ داری کا الہی فریضہ انجام دینا شروع کیا ۔ وہ حکومت عباسی کے خلیفہ ہارون رشید کا دور تھا جس میں معاشرے میں سیاسی ماحول بہت ہی گھٹن بھرا تھا یہاں تک کہ امام رضا علیہ السلام کے کچھ وفادار اصحاب امام کے اس طرح کھلے عام تبلیغ کرنے کی وجہ سے ان کی سلامتی کے حوالے سے تشویش میں مبتلا تھے تاہم امام رضا علیہ السلام بغیر خوف و ہراس کے اسلامی تعلیمات کی تبلیغ میں مصروف تھے۔ 

امام رضا علیہ السلام نے اپنے نانا پیغمبر اسلام کی سنت کی توسیع کے لئے بہت زیادہ کوششیں کیں ۔ امام رضا علیہ السلام کی صحت اور طب کے شعبے میں کوششوں کی وجہ سے وہ عالم اسلام کی عظیم شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ 

مامون شروع سے ہی عوام کے دلوں میں امام رضا علیہ السلام کی عظمت اورعزت سے بہت تعصب کرتا تھا اور متعدد سازشوں سے وہ امام رضا علیہ السلام کی شخصیت کو خراب کرنے کے درپے رہتا تھا۔ اس مقصد کے حصول کے لئے وہ علمی مناظروں کا انعقاد کرواتا تھا جس میں چنندہ علماء شرکت کرتے تھے۔ مامون سوچتا تھا کہ اس طرح کی مجالس کے ذریعے وہ امام رضا علیہ السلام کو علمی اعتبار سے شکست دے دے گا تاہم اس میں بھی مامون کو ناکامی ہاتھ لگی ۔

ظلم کے خلاف امام رضا علیہ السلام کی خفیہ مزاحمت اتنی کارگر اورموثرتھی کہ اہل بیت اطہار کے خلاف حکومتوں کے زہریلے پروپیگینڈوں کے باوجود اماموں کا بلند مرتبہ عوام پر ظاہر ہو گیا۔  

مامون کو جب اپنی آخری سازش میں بھی ناکامی ہوئی یعنی وہ جب امام رضا علیہ السلام کو اپنا جانشین بنانے کے بعد بھی اپنے اہداف کو حاصل نہ کر سکا تو اس نے اپنی روش بدل دی اور اس نے امام علی رضا علیہ السلام کو زہر دغا دے کر شہید کروا دیا۔ اس طرح امام رضا علیہ السلام 55 سال کی عمر میں 203 ہجری قمری میں صفر کے مہینے کی آخری تاریخ کو اس دنیائے فانی سے رخصت ہوگئے اور شہر طوس میں دفن ہوئے جسے اب مشہد کہا جاتا ہے۔

امام رضا علیہ السلام کی مختصر زیارت :

اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا وَلِىَّ اللَّهِ وَابْنَ وَلِیِّهِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا حُجَّهَ اللَّهِ وَابْنَ حُجَّتِهِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا اِمامَ الْهُدى وَالْعُرْوَهَ الْوُثْقى وَرَحْمَهُ اللَّهِ وَبَرَکاتُهُ اَشْهَدُ اَنَّکَ مَضَیْتَ عَلى ما مَضى عَلَیْهِ آبآؤُکَ الطّاهِرُونَ صَلَواتُ اللَّهِ عَلَیْهِمْ لَمْ تُؤْثِرْ عَمىً عَلى هُدىً وَلَمْ تَمِلْ مِنْ حَقٍّ اِلى باطِلٍ وَاَنَّکَ نَصَحْتَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَاَدَّیْتَ الاَمانَهَ فَجَزاکَ اللَّهُ عَنِ الاِسْلامِ وَاَهْلِهِ خَیْرَ الْجَزآءِ اَتَیْتُکَ بِاَبى وَ اُمّى زآئراً عارِفاً بِحَقِّکَ مُوالِیاً لاَوْلِیآئِکَ مُعادِیاً لاَعْدآئِکَ فَاشْفَعْ لى عِنْدَ رَبِّکَ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یا مَوْلاىَ یَا بْنَ رَسُولِ اللَّهِ وَرَحْمَهُ اللَّهِ وَبَرَکاتُهُ اَشْهَدُ اَنَّکَ الاِمامُ الْهادى وَالْوَلِىُّ الْمُرْشِدُ اَبْرَءُ اِلَى اللَّهِ مِنْ اَعْدآئِکَ وَاَتَقَرَّبُ اِلَى اللَّهِ بِوِلایَتِکَ صَلَّى اللَّهُ عَلَیْکَ وَرَحْمَهُ اللَّهِ وَبَرَکاتُهُ.

ٹیگس

Nov ۰۷, ۲۰۱۸ ۲۰:۲۸ Asia/Tehran
کمنٹس