Jan ۰۹, ۲۰۱۹ ۰۷:۲۷ Asia/Tehran
  • کلمات امیرالمومنینؑ از نہج البلاغہ

وقال (عليه السلام): سُوسُوا إِيمَانَكُمْ بِالصَّدَقَةِ، وَحَصِّنُوا أَمْوَالَكُمْ بِالزَّكَاةِ، وَادْفَعُوا أَمْواجَ الْبَلاَءِ بِالدُّعَاءِ.

ترجمہ

 صدقہ سے اپنے ایمان کی اور زکوٰة سے اپنے مال کی حفاظت کرو، اور دعا سے مصیبت و ابتلاء کی لہروں کو دور کرو۔

 تشریح

صدقہ ایسی چیز ہے کہ انسان اس کو قربۃ الی اللہ کی نیت سے خداوندمتعال کے نزدیک ہونے کے لئے اپنے مال سے نکالتا ہے جیسے زکوۃ، لیکن لفظ صدقہ کو مستحب صدقہ کے لئے اور زکوۃ کو واجب صدقہ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

خدا کی راہ میں مال دینے کو (تصدق) اور جو مال دیا گیا ہے اس کو صدقہ کہا جاتا ہے۔

قرآن کی آیات اور معصومینؑ کی روایات کو دیکھتے ہوئے صدقہ دینے میں کچھ باتوں کا خیال رکھا جائے۔

صدقہ پاک اور حلال مال سے نکالنا چاہیے۔

بہتر ہے کہ صدقہ مخفی طور پر دیا جائے۔

صدقہ دینے میں جلدی کی جائے اور کسی کو انتظار نہ کرایا جائے۔

اپنے پسندیدہ اور اچھے مال میں سے صدقہ دیا جائے۔

صدقہ دینے والا ہرگز خود کو اس مال کا حقیقی مالک نہ سمجھے بلکہ خود کو خدا اور اسکی خلق کے درمیان وسیلہ سمجھے۔

روایت میں ہے کہ امام محمد باقرؑ نے فرمایا کہ ـ صدقہ انسان سے ستر بلاوں کو دور کرتا ہے ۔ المیزان ج۲ ص ۴۲۰

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں جب رات گزار کر صبح کرتے ہو تو صدقہ دو تا کہ اس دن کی نحوست تم سے دور جائے اور جب دن گزار کر رات کرو تو صدقہ دو تاکہ رات کی نحوست تم سے دور ہوجائے۔

مفاتیح الحیات ص ۵۵۲۔ جواد عاملی

ٹیگس

کمنٹس