Jan ۳۱, ۲۰۱۹ ۰۵:۲۰ Asia/Tehran
  • مرد و عورت کے حقوق

الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ۚ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ ۚ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ ۖ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا

مرد عورتوں کے حاکم اور نگراں ہیں ان فضیلتوں کی بنا پر جو خد انے بعض کو بعض پر دی ہیں اور اس بنا پر کہ انہوں نے عورتوں پر اپنا مال خرچ کیا ہے- پس نیک عورتیں وہی ہیں جو شوہروں کی اطاعت کرنے والی اور ان کی غیبت میں ان چیزوں کی حفاظت کرنے والی ہیں جن کی خدا نے حفاظت چاہی ہے اور جن عورتوں کی نافرمانی کا خطرہ ہے انہیں موعظہ کرو- انہیں خواب گاہ میں الگ کردو اور مارو اور پھر اطاعت کرنے لگیں تو کوئی زیادتی کی راہ تلاش نہ کرو کہ خدا بہت بلند اور بزرگ ہے(۳۴)

پیغام:

مرد کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ اپنی مطیع بیوی کو تکلیف پہنچائے۔

عورت کو مطیع بنانے کے لیے نصیحت کے تین مرحلے ہیں،وعظ و نصیحت، ترک ہمخوابی اور پھر جسمانی سزا دینا۔ اگر عورت ان تین طریقوں کے علاوہ کسی اور طرح سے مطیع ہوجائے تو مرد کو حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کوئی سخت طریقہ استعمال کرے۔"فان اطعنکم"کا جملہ بتاتا ہے کہ مقصد اطاعت ہے،خواہ کسی بھی مناسب ذریعہ سے ہو۔

عورت کا متواضع ہونا،اس کے لیے کمزوری یا چھوٹا ہونا نہیں بلکہ اس کی قدر و اہمیت میں اضافہ کا باعث ہے۔

نیک سیرت بیوی کا کردار یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کی عدم موجودگی میں اس کے رازوں کی امین اور اس کے مال،عزت و آبرو اور ناموس کی محافظ ہوتی ہے۔

منکرات اور برائی سے مقابلہ قدم بقدم اور مرحلہ وار ہونا چاہیے، پہلے نصیحت،پھر کچھ سختی اور پھر سزا۔

جب تک نصیحت کا رگر ہو،غصہ اور سختی ممنوع ہے،اور جب تک جدائی و علیحدگی کی موثر ہے، جسمانی سزا ممنوع ہے۔

سختی اور سزا صرف فرائض کی انجام دہی کے لیے ہے،انتقام،کینہ اور بہانہ بنا لینے کے لیے نہیں۔

عورتوں پر مردوں کی برتری اور فضلیت ان کے مغرور بن جانے کا سبب نہیں بننی چاہیے کیونکہ خدا تعالی تمام کائنات سے بالاتر اور برتر ہے۔

خدا تعالی کی برتری پر توجہ رکھنا توجہ کی کلید اور بیویوں پر ستم کرنے سے روکتی ہے۔

آیت نمبر۳۴

تفسیرقرآن

تفسیرنورمحسن قرائتی

سورہ النساء

ٹیگس

کمنٹس