Mar ۲۱, ۲۰۱۹ ۰۹:۳۱ Asia/Tehran
  • عید نوروز کا اسلامی پہلو

نوروز ایرانی سال کا آغاز، بہار کی آمد، فطرت اور قدرت کے حسن کا جشن ہے جو اسلام سے پہلے بھی رائج تھا ۔

نوروز فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی "نیا دن" ہے۔ نوروز 21 مارچ بمطابق یکم فروردین یعنی نئے شمسی سال کے آغاز کا جشن ہے۔

ایران میں جشن نوروز کوروش اور ہخامنشی بادشاہوں کے عہدوں میں بھی رائج تھا جنہوں نے اسے باقاعدہ طور پر قومی جشن قرار دے دیا۔

وہ اس دن فوجیوں کی ترقی، مختلف مقامات، گھروں کی صفائی اور مجرموں کو معاف کرنے کے حوالے سے احکامات جاری کرتے تھے۔

ہخامنشی بادشاہ داریوش یکم کے عہد میں تخت جمشید میں نوروز کی تقریب منعقد ہوتی تھی۔

ایرانی قوم عید نوروز کو سال کے سب کے بڑے تہوار کے طور پر مناتی ہے. نیا سال شروع ہونے سے پہلے ہی لوگ اپنے گھروں کی صفائی شروع کر دیتے ہیں ۔ اس کو ""خانہ تکونی"" کا نام دیا جاتا ہے. اس موقع پر لوگ ہر نئی چیز خریدنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

ہم ایک عام قانون کی طرف اشارہ سے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہیں اور وہ یہ کہ ہر قوم اور ملت کسی اہم واقعہ یا حادثہ جو انکے لیئے اہمیت کا حامل ہو بعنوان آغاز سال قرار دیتے ہیں، اور اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں،  اور اسکو ایک Event  قرار دیتے ہیں، بعنوان مثال عیسائی حضرت عیسی کی پیدائش کے دن کو سال کا آغاز قرار دیتے ہیں، مسلمان ہجرت پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آغاز اسلامی سال قرار دیتے ہیں اور ایرانی شمسی نظام یعنی مین کا سورج کے گرد چکر مکمل ہونے کو سال آغاز شمار کرتے ہیں، ایرانی اس آغاز کو ثقافتی دن سمجھ کر مناتے ہیں اور یہ دن فقط ایران تک محدود نہیں بلکہ فارسی زبان جہاں جہاں بولی جاتی ہے وہاں اس کے اثرات زیادہ واضح نظر آتے ہیں جیسے تاجیکستان، افغانستان، آذربائیجان، اور ہندوستان اور پاکستان کے بعض لوگ اس کو Event کے طور پر مناتے ہیں۔

مشہور تاریخ دان یعقوبی رقم فرماتے ہیں کہ: ان کے سال کا پہلا دن نوروز کے نام سے ہے ، جس میں آب نیسان بھی برستا ہے یہ اس وقت ہے جب سورج برج حمل میں داخل ہوتا ہے اور یہ دن ایرانیوں کے لئے بڑی عید ہے۔ البتہ اس بات کو ایرانیوں کا حسن سلیقہ سمجھنا چاہیے کہ بہار کو سال کےآغاز کے لئے انتخاب کیا جس میں نباتات دوبارہ تروتازہ  ہوتے ہیں اور ہریالی  کا آغا ہوتا ہے،  جس طرح کچھ ممالک عیسوی سال کو جشن کے طور پر مناتے ہیں۔

جس زمانے میں اسلام نے فتوحات کے ذریعہ پھیلنا شروع کیا اس وقت مختلف قومی ثقافتوں اور رسم و رواج سے سامنا ہوا ،اسلام اِن موارد سے دو طرح پیش آیا: وہ آداب و رسوم جو اسلامی اہداف اور اصول کے مخالف تھے ان سے شدت کے ساتھ پیش آیا۔

وہ آداب و رسوم جو اسلامی اہداف و اصول کے برخلاف نہیں تھے اور نہ ہیں اس صورت میں یا اسکی تائید کی یا انکے مقابلے میں مخالفانہ رویہ اختیار نہیں کیا یعنی خاموشی اختیار کی۔

ٹیگس

کمنٹس