• امریکی صدر ٹرمپ کے خلاف احتجاجی مظاہرے

امریکی عوام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ایک بار پھر مظاہرہ کیا ہے۔

ارنا کی رپورٹ کے مطابق ریاست کنٹاکی کے شہر لوئزویل کے باشندوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے اس شہر کے دورے کے موقع پر مظاہرہ کر کے اوباما کیئر پروگرام کو ختم کرنے کے لئے ٹرمپ کے منصوبے پر اپنی مخالفت کا اظہار کیا ہے۔مظاہرین نے ٹرمپ کے خلاف نعرے لگائے جبکہ انھوں نے اپنے ہاتھوں میں ایسے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے کہ جن پر ٹرمپ کے جھوٹا ہونے کے بارے میں نعرے لکھے ہوئے تھے۔ سیکورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کی راہ میں رکاوٹیں بھی کھڑی کیں تاہم کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا اور مظاہرہ اپنے اختتام کو پہنچا۔واضح رہے کہ حالیہ چند ہفتوں کے دوران امریکہ کی مختلف ریاستوں کے بہت سے شہروں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف وسیع پیمانے پر مظاہرے ہوئے ہیں۔دوسری جانب امریکہ کے ایک ڈیموکریٹ سینیٹر نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ چند دنوں میں مستعفی ہو سکتے ہیں۔اخبار انڈیپنڈنٹ کے مطابق امریکی سینیٹ کی عدلیہ کمیٹی کے رکن ڈیانے فینش ٹائن نے امریکی صدر ٹرمپ کے خلاف لاس انجلیس کے عوام کے مظاہروں کے بعد کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ، اقتدار سے کنارہ کشی پر مجبور ہونے سے قبل ہی اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔ انھوں نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ان کے پاس ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ جنھیں وہ ابھی شیئر نہیں کر سکتے، کہا کہ امریکی شہری، حقائق کو منظر عام پر لائے جانے کے خواہاں ہیں۔ لاس انجلیس کےعوام نے وسیع پیمانے پر مظاہرہ کر کے امریکی کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ، ٹرمپ کو برطرف کرنے کے لئے ضروری اقدامات عمل میں لائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے قوانین کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی ہیں۔ادھر ایک امریکی فنکار نے امریکی صدر ٹرمپ کی جنگ پسندانہ پالیسیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک بڑی تصویر، بل بورڈ پر بنا کر اسے ریاست ایریزونا کے ایک ہائی وے پر نصب کر دیا۔شہر فونیکس کے ایک ہائی وے پر ڈونلڈ ٹرمپ کی لگائی جانے والی اس تصویر کو ایک خاتون فنکار نے بنایا ہے جس میں تصویر کے پردے پر نازیوں کی ٹوٹی صلیب اور ایٹمی دھماکے کے نتیجے میں اٹھتے ہوئے دھویں کی ڈیزائن بنائی گئی ہے۔اپنی اس پینٹنگ کے بارے میں امریکہ کی اس فنکار نے کہا ہے کہ امریکی عوام، صدر ٹرمپ کی جنگ پسندانہ پالیسیوں سے بہت زیادہ نالاں ہیں اور انھوں نے اس قسم کی منظرکشی کر کے ٹرمپ کی جارحانہ پالیسیوں پر تنقید اور اپنی برہمی و ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

Mar ۲۱, ۲۰۱۷ ۱۰:۴۳ UTC
کمنٹس