یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کی سربراہ نے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے پر دوبارہ مذاکرات ناممکن ہیں۔

یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے پانچ جمع ایک گروپ کے ساتھ ایران کے ایٹمی معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشترکہ جامع  ایکشن پلان یا ایٹمی معاہدے پر دوبارہ مذاکرات ناممکن ہیں-

انہوں نے واشنگٹن میں ایٹمی موضوع پر ایک پروگرام میں تقریر کے دوران ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کی بعض شقوں پر دوبارہ مذاکرات کے امکان کے  بارے میں کہا کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے، اب تک پانچ بار اس بات کی تصدیق کرچکی ہے کہ ایران نے ایٹمی معاہدے پر پوری طرح سے عمل کیا ہے-

انہوں نے کہا کہ ایٹمی معاہدے پر سبھی فریقوں کی جانب سے مکمل طور پر عمل درآمد ہونا چاہئے- فیڈریکا موگرینی نے کہا کہ یہ معاہدہ کوئی ایسا معاہدہ نہیں ہے کہ اس کے کسی ایک حصے پر دوبارہ مذاکرات کئے جائیں-

واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے پیر کو وائٹ ہاؤس میں عراقی وزیراعظم کے ساتھ ملاقات میں ایک بار پھر ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان ہوئے ایٹمی معاہدے پر تنقید کی تھی- یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کی سربراہ نے ایران کی جانب سے ایٹمی معاہدے پر مکمل عمل درآمد کی تصدیق کرتے ہوئے اس معاہدے پر امریکی صدر ٹرمپ کی مخالفت کے بارے میں کہا کہ اس وقت واشنگٹن میں ایٹمی معاہدے کے  تعلق سے ایک الگ سوچ پائی جا رہی ہے لیکن کچھ حقائق ایسے بھی ہیں کہ جن کا انکار نہیں کیا جاسکتا-

ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی معاہدے کو اقوام متحدہ کی حمایت حاصل ہے اور سلامتی کونسل نے بھی اس کی تائید کی ہے بنابریں ہمیں ہمیشہ کی طرح کہنے دیجئے کہ یہ ایسا سمجھوتہ ہے جس کا تعلق عالمی برادری سے ہے اور یورپ اس معاہدے کی حفاظت کے لئے پرعزم ہے-

ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد ہماری سلامتی کی کنجی ہے- یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کی سربراہ نے کہا کہ ایٹمی معاہدہ چند جانبہ سفارتکاری کا نتیجہ ہے اور یہ وہ راستہ ہے جسے ہم یورپ والے جاری رکھیں گے-  

 

 

Mar ۲۱, ۲۰۱۷ ۱۰:۴۶ UTC
کمنٹس