امریکی صدر ٹرمپ نے افغانستان کے مشرقی علاقے میں امریکی فضائیہ کے ذریعے دنیا کا سب سے بڑا بم گرائے جانے کی حمایت کا اعلان کیا ہے-

امریکی صدر ٹرمپ نے افغانستان میں دنیا کا سب سے بڑا بم گرانے کے امریکی فضائیہ کے اقدام پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن دوسرے ملکوں پر حملہ کرنے کے لئے کسی سے اجازت نہیں لے گا بلکہ وہ حملے کا حکم جاری کرے گا-

ٹرمپ نے واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس میں دعوی کیا کہ یہ بم افغانستان کے مشرقی شہر آچین کے قریب داعش کے ٹھکانے پر گرایا گیا ہے لیکن افغانستان کی پارلیمنٹ کے ارکان اور سابق افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ امریکا نے یہ بم تجربہ کرنے کے لئے گرایا ہے اور اس نے افغانستان کو اپنے بموں اور ہتھیاروں کی تجربہ گاہ میں تبدیل کر دیا ہے-

یاد رہے کہ امریکی فضائیہ نے جمعرات کی شام اپنا سب سے بڑا غیر ایٹمی بم، افغانستان کے مشرقی شہر آچین کے قریب گرایا جس میں دسیوں افراد جاں بحق ہو گئے تھے- یہ بم گیارہ ٹن ٹی این ٹی کا تھا-

دوسری جانب کابل یونیورسٹی کے ایک پروفیسر اور سینیئر تجزیہ نگار اسداللہ وحیدی نے کہا ہے کہ امریکا نے مشرقی افغانستان میں یہ بم گرا کر رائے عامہ کی توجہ منحرف کرنے کی کوشش کی ہے- افغان پروفیسر کا کہنا تھا کہ سب پر یہ واضح ہو گیا ہے کہ امریکا علاقے میں داعش کا سب سے بڑا حامی ہے اور اس طرح وہ عالمی سطح پر رائے عامہ کو فریب دینے کی  کوشش کر رہا ہے-

افغانستان کے سینیئر تجزیہ نگار اسداللہ وحیدی نے جو کابل سے شائع ہونے والے روزنامہ سرنوشت کے چیف ایڈیٹر بھی ہیں، کہا ہے کہ امریکا نے پچھلے برسوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ کے  بہانے اپنے انواع و اقسام کے ہتھیاروں کا افغانستان میں تجربہ کیا ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں افغان شہری مارے گئے ہیں- 

افغانستان کے رکن پارلیمنٹ عبدالودود پیمان نے بھی کہا ہے کہ امریکا اور برطانیہ، افغانستان میں امن کے دشمن ہیں-  انہوں نے کہا کہ یہ ممالک افغانستان سے متعلق ہونے والے اجلاسوں میں رکاوٹیں کھڑی کر کے افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کو ناکام بناتے ہیں کیونکہ وہ افغانستان میں امن نہیں چاہتے-

افغان رکن پارلیمنٹ عبدالودود پیمان نے کہا کہ امریکا دہشت گرد گروہ داعش کی حمایت کرکے افغانستان کی جنگ کو طول دینا چاہتا ہے تاکہ وہ ہمارے ملک میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھ سکے-

انہوں نے کہا کہ افغان عوام اپنے ملک میں غیر ملکی افواج کی موجودگی کے خلاف ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ غیر ملکی فوجوں کے انخلا کی صورت میں ہی افغانستان میں امن قائم ہو گا-

انہوں نے کہا کہ ماسکو میں ہونے والے حالیہ اجلاس کے شرکا اگر کسی نتیجے پر پہنچ جائیں تو وہ آسانی کے ساتھ افغانستان میں غیر ملکی افواج کی موجودگی کا راستہ روک سکتے ہیں- 

چند روز قبل ماسکو میں افغانستان سے متعلق ایک اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں روس کے اتحادی ملکوں منجملہ اسلامی جمہوریہ ایران نے بھی شرکت کی تھی- اس اجلاس میں امریکا کو دعوت نہیں دی گئی تھی-

 

Apr ۱۶, ۲۰۱۷ ۱۰:۳۹ UTC
کمنٹس