• ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ایٹمی سمجھوتے پر امریکی صدر کی تنقید

امریکہ کے متنازعہ صدر نے اسلامی جمہوریہ ایران کے سلسلے میں اپنی دشمنانہ پالیسیاں جاری رکھتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والا ایٹمی سمجھوتہ، اب تک کا بدترین سمجھوتہ ہے- دوسری جانب بین الاقوامی اداروں میں روس کے مستقل مندوب ولادیمیر ورونکوف نے امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن کی مشترکہ جامع ایکشن پلان پر تنقید پر کہا ہے کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان سے سرپیچی، عالمی استحکام کو خطرے میں ڈال دے گی۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اٹلی کے وزیر اعظم پاؤلو جنتیلونی کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی سمجھوتے پر دستخط نہیں ہونے چاہئے تھے-

انھوں نے کہا کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان، بدترین سمجھوتہ ہے جو اب تک انھوں نے دیکھا ہے- ٹرمپ کے ایران مخالف یہ دشمنانہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں کہ ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل نے بارہا اعتراف کیا ہے کہ ایران نے ہمیشہ مشترکہ جامع ایکشن پلان کے سلسلے میں اپنے تمام وعدوں پر بھرپور عمل کیا ہے-

یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے بھی ابھی حال ہی میں اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان، عالمی برادری سے متعلق ہے، کہا کہ یہ کوئی دو طرفہ سمجھوتہ نہیں ہے کہ جسے تبدیل کیا جاسکے-

دوسری جانب امریکہ کی وزارت خارجہ کے بین الاقوامی سلامتی کے مشاورتی گروپ کے رکن رابرٹ ہینٹر نے ارنا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی کانگریس کی پابندیوں سمیت ہر وہ اقدام کہ جو جامع مشترکہ ایکشن پلان پر عمل درآمد میں خلل کا باعث بنے، غیر تعمیری ہو گا-

امریکی وزارت خارجہ کے بین الاقوامی سلامتی کے مشاورتی گروپ کے رکن نے مزید کہا کہ  جامع مشترکہ ایکشن پلان، ایران اور علاقے کے ممالک کے درمیان تعلقات میں فروغ و بہتری کا عامل ہو سکتا ہے- اس امریکی عہدیدار نے کہا کہ ایران اور یورپی یونین کے درمیان ایٹمی سلامتی کے سلسلے میں تعاون کی پہلی قرارداد پر دستخط ایک اہم اور موثر اقدام ہو گا-

روس کی وزارت خارجہ نے بھی تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد کی کیفیت کے بارے میں واشنگٹن کا اعتراض پوری طرح نامناسب  اور بے جا ہے-

روسی وزارت خارجہ میں ترک اسلحہ اور سیکورٹی سے متعلق امور کے سربراہ میخائیل اولیانوف نے کہا کہ امریکہ نے اب تک ایسی کوئی دلیل و ثبوت فراہم نہیں کیا ہے کہ جس سے ثابت ہوتا ہو کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان پر جس طرح عمل درآمد ہونا چاہئے تھا ویسا نہیں ہوا ہے-

دوسری جانب ویانا مین بین الاقوامی اداروں میں روس کے مستقل مندوب ولادیمیر ورونکوف نے امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن کی جانب سے مشترکہ جامع ایکشن پلان اور نظرثانی پروگرام پر تنقید کے سلسلے میں منظرعام پر آنے والی خبروں پر کہا ہے کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان سے سرپیچی، عالمی استحکام کو خطرے میں ڈال دے گی اور ماسکو کو توقع ہے کہ واشنگٹن کو چاہئے کہ آئندہ ہفتے مشترکہ جامع ایکشن پلان کے بارے میں اپنے واضح موقف کا اعلان کرے-

روس، یورپی یونین اور چین نے با رہا امریکہ کے مقابلے میں اپنی مخالفت کا اعلان کرتے ہوئے مشترکہ جامع ایکشن پلان کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور اس پر عمل درآمد کی راہ میں کسی بھی طرح کی رکاوٹ کو مسترد کرتے ہوئے اس معاہدے پر تمام فریقوں کے عملی طور پر کاربند رہنے پر تاکید کی ہے-   

 

 

Apr ۲۱, ۲۰۱۷ ۱۰:۵۶ UTC
کمنٹس