اقوام متحدہ نے خبر دی ہے کہ شام اور عراق میں داعش کی صفوں میں جو تیس ہزار غیر ملکی اور بالخصوص یورپی دہشت گرد سرگرم تھے ان میں چالیس سے پچاس فیصد عناصر وہاں سے واپس لوٹ چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی انسداد دہشت گردی کی کمیٹی کے سربراہ جان پال لابورڈ نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کی یورپ واپسی کے بارے میں انتباہات ایک ایسے وقت سامنے آرہے ہیں جب داعش کے تکفیری دہشت گرد، شام اور عراق میں مسلسل شکست کھا رہے ہیں اور ان کے زیرقبضہ علاقے یکے بعد دیگرے ان کے کنٹرول سے نکلتے جا رہے ہیں-

انہوں نے اقوام متحدہ کے نمائندوں کے اجلاس کے بعد اپنے ایک بیان میں کہا کہ یورپی ملکوں کی سرحدوں اور ہوائی اڈوں پر سفری جانچ پڑتال اور بندشوں کے باوجود ہمیشہ دہشت گرد عناصر سرحدیں عبور کر کےاپنے اپنے ملکوں کو واپس پہنچ جاتے ہیں اور یہ انسانی اسمگلروں کی دخالت سے زیادہ آسانی سے ممکن ہو جاتا ہے-

اقوام متحدہ کی انسداد دہشت گردی کمیٹی کے سربراہ نے متعدد یورپی ملکوں کے حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ گذشتہ بارہ مہینے میں جو دہشت گرد عناصر واپس یورپ لوٹے ہیں ان کی تعداد تیس فیصد تک بڑھ گئی ہے۔

May ۱۹, ۲۰۱۷ ۱۰:۱۷ UTC
کمنٹس