Jul ۱۱, ۲۰۱۷ ۱۹:۵۲ Asia/Tehran
  • مشترکہ جامع ایکشن پلان کی از سرنو تدوین ممکن نہیں : روس

روس کے نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔

روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے ایران کے نائب وزرائے خارجہ سید عباس عراقچی اور مجید تخت روانچی سے ملاقات میں امریکہ کی جانب سے مشترکہ جامع ایکشن پلان کی ممکنہ خلاف ورزی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو، مشترکہ جامع ایکشن پلان کی از سر نو تدوین یا تشریح کو مسترد کرتا ہے کیونکہ یہ معاہدہ ، متوازن اور مثبت ہے۔
 روس کے نائب وزیر خارجہ نے امریکہ میں ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد سے ہی واشنگٹن کی ایران مخالف پابندیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پابندیاں مشترکہ جامع ایکشن پلان کے منافی ہیں اور امریکہ کے یہ اقدامات، اس معاہدے کو بنیادی طور پر غیرمستحکم اور کمزور بناتے ہیں۔
 ریابکوف نے تاکید کے ساتھ کہا کہ، مشترکہ جامع ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کر رہا ہے۔
ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ہونے والے سمجھوتے پر جنوری دوہزار سولہ سے عمل درآمد شروع ہوا ہے۔امریکی حکومت نے ہمیشہ ہی اس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

ٹیگس

کمنٹس