روس کے وزیر خارجہ نے نیویارک اور میری لینڈ میں روس کی ضبط کی جانے والی عمارتوں کے مسئلے کو امریکہ کی کھلی ڈکیتی سے تعبیر کیا ہے۔

ذرائع‏ کے مطابق روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے روس کی سفارتی عمارتوں کے کیس میں حکومت امریکہ کی جانب سے شرطیں عائد کئے جانے کو چوری و سینہ زوری قرار دیتے ہوئے، موجودہ صورت حال پر کڑی تنقید کی ہے۔
روس کے وزیر خارجہ نے نیویارک اور میری لینڈ میں روس کی سفارتی عمارتوں کے ضبط کئے جانے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
امریکی حکام نے دسمبر دو ہزار سولہ میں امریکی صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت کا دعوی کرتے ہوئے نیویارک اور میری لینڈ میں روس کی نمائندہ سفارتی عمارتوں کو ضبط اور روس کے پینتیس سفارتکاروں کو ملک سے نکال دیا تھا۔
بعض رپورٹوں کے مطابق وہائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ روس کی زمین و جائداد کو بلاعوض واپس نہیں کیا جائے گا۔
روس نے بھی جوابی دھمکی دی ہے کہ سفارتکاری کے دائرے میں ماسکو میں بہت سے امریکی جاسوس سرگرم عمل ہیں کہ جن میں سے بعض سفارت کاروں کو جوابی اقدام کے تحت روس ترک کرنے پر مجبور کر دیا جائے گا۔

Jul ۱۷, ۲۰۱۷ ۱۶:۲۸ UTC
کمنٹس