• ایٹمی معاہدے کے تعلق سے امریکی موقف پر روس کی تنقید

روس نے کہا ہے کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کو شک و شبہے کی نگاہ سے دیکھتے ہیں

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ماسکو میں یونیورسٹیوں کے طلبا کے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ اب تک عالمی سطح پر جو چند کامیاب مذاکرات انجام پائے ہیں ان میں سے ایک ایران کے ایٹمی معاملے پر ہونے والا مذاکرتی عمل بھی شامل ہے - روسی وزیرخارجہ نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ افسوس کے ساتھ  کہنا پڑتا ہےکہ امریکی حکام ایران کے ایٹمی پروگرام پر ہونےوالے کامیاب مذاکرات پر سوالیہ نشان لگارہے ہیں کہاکہ اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران نے ایٹمی معاہدے کی پاسداری کی ہے لیکن ٹرمپ اس معاہدے کو ایک برا معاہدہ کہتے ہیں- واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے جمعے کی رات ایک بار پھر نیوجرسی میں نامہ نگاروں سے گفتگو کے دوران دعوی کیا کہ ایران ایٹمی معاہدے کی روح کی پابندی نہیں کرتا - روسی وزیرخارجہ نے  کہا کہ شمالی کوریا کے ایٹمی اور میزائلی پروگرام پر جنگ کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے جوباعث تشویش ہے - ان کا کہنا تھا کہ ماسکو سمجھتاہے کہ امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان لفظی جنگ  خطرناک ہے - انہوں نے امریکا اور شمالی کوریا دونوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے درمیان کشیدگی کو ختم کریں -

Aug ۱۲, ۲۰۱۷ ۱۰:۰۸ UTC
کمنٹس