• فلسطین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کی مذمت

اقوام متحدہ نے سرزمین فلسطین میں صیہونی حکومت کے ساٹھ سال سے زائد عرصے سے غاصبانہ قبضے کی مذمت کی ہے۔

تجارت اور ترقی کے امور میں اقوام متحدہ کے ادارے یو این سی ٹی اے ڈی کی نئی رپورٹ میں فلسطینی علاقوں منجملہ غرب اردن اور مشرقی بیت المقدس پراسرائیل کے غاصبانہ قبضے کی مذمت کی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صیہونی بستیوں کی تعمیر فلسطین کی ترقی و پیشرفت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یو این سی ٹی اے ڈی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل بدستور اپنے قوانین فلسطینیوں پر مسلط کررہا ہے۔ ان حالات میں فلسطین اور اسرائیل کا تنازعہ حل ہونے کی امید کے بجائے اسرائیل کے غاصبانہ قبضے میں اضافہ اور فلسطینیوں کی اقتصادی اور سماجی صورتحال بدتر ہوئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل انیس سو سڑسٹھ سے مسلسل فلسطینیوں کے پوٹنشیل کو نقصان پہنچا رہا ہے اور اس نے فلسطینیوں کی ترقی و پیشرفت کے حق کا انکار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں دوہزار سولہ میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اس رپورٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے جس میں تاکید کی گئی ہے کہ  اسرائیل مقبوضہ علاقوں میں صیہونی بستیوں کی تعمیر روک دے کہا گیا کہ ہے ، صیہونی بستیوں کی تعمیر غیرقانونی ہے اور اس کا جاری رہنا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوہزار سولہ میں فلسطینی علاقوں میں صیہونی بستیوں کی تعمیر دوہزار پندرہ کے مقابلے میں چالیس فیصد زیادہ رہی ہے اور یہ عمل فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار اور ان کی زرعی اراضی کو تباہ کرکے انجام دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطیینوں کے گھروں کو مسمار کردیئے جانے کی وجہ سے سولہ سو فلسطینی بے گھر ہوگئے ہیں جن میں آٹھ سو فلسطینی بچے شامل ہیں۔

عالمی اداروں اور دنیا کے مختلف ملکوں نے بھی بارہا صیہونی حکومت سے کہا ہے کہ وہ فلسطین پر اپنا غاصبانہ قبضہ ختم کرے لیکن صیہونی حکومت نے ہمیشہ عالمی برادری کے مطالبات کی پروا کئے بغیر فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ اور انہیں بے دردی کے ساتھ کچلا ہے۔

 

 

Sep ۱۳, ۲۰۱۷ ۱۴:۱۸ UTC
کمنٹس