• ایٹمی معاہدے پر  عمل درآمد کی حمایت

یورپی یونین نے ایٹمی معاہدے پر مکمل عمل درآمد کے لئے اپنی حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ فرانس کے صدر میکرون اور برطانوی دارالامرا نے بھی ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

یورپی یونین نے بدھ کو ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں ایک بیان جاری کرکے ایٹمی معاہدے پر جس کی اقوام متحدہ نے تا‏ئید کی ہے سبھی فریقوں کے ذریعے مکمل عمل درآمد کئے جانے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ یورپی یونین اس معاہدے پر عمل درآمد کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔
یورپی یونین کے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کے لئے خود کو پابند سمجھتی ہے۔
آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کے تیسرے دن ایران کے بارے میں ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا آمانو کی حالیہ رپورٹ کا بھی جائزہ لیا جائےگا۔
یوکیا آمانو نے پیر کو اجلاس کی افتتاحی تقریب میں کہا تھا کہ آئی اے ای اے اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ایران نے ایجنسی کے سیف گارڈ معاہدے کی پابندی کی ہے۔
اس درمیان برطانوی پارلیمنٹ کے ایوان بالا دارالامرا میں بین الاقوامی تعلقات کی کمیٹی کے سربراہ ڈیوڈ ہال نے برطانوی وزیرخارجہ بوریس جانسن کے نام خط ارسال کرکے ان سے مطالبہ کیا ہے کہ برطانوی حکومت ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ہوئے ایٹمی معاہدے کی کھل کر حمایت کرے۔
فرانس کے صدر عمانوئیل میکرون نے بھی ایٹمی معاہدے یا مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لئے ایک بار پھر اپنے ملک کی حمایت کا اعلان کیاہے۔
امریکا کی وعدہ خلافیوں اور ایٹمی معاہدے کے تعلق سے واشنگٹن کے غیر قانونی اقدامات کے باوجود معاہدے میں شامل دیگر فریق، روس، چین ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایٹمی معاہدے پر مکمل عمل درآمد پر زور دیا ہے۔
اس درمیان ایک سابق امریکی سینیٹر نے خبردار کیا ہے کہ کانگریس میں اسرائیل سے وابستہ لابی ایٹمی معاہدے کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
سابق امریکی سینیٹر میک گریول نے پرس ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نتنیاہو جو آئپیک کے ذریعے امریکی کانگریس کو کنٹرول کرتے ہیں امریکا کی خارجہ پالیسی میں کافی دخل رکھتے ہیں اور وہ اپنے اسی اثر و رسوخ کی بدولت ایران کے ساتھ ہوئے ایٹمی معاہدے کو ختم کرانا چاہتے ہیں۔
سابق امریکی سینیٹر کا کہنا ہے کہ ایران نے کبھی بھی ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کی لیکن وہ اسرائیل کے حملوں کا جواب دینے کے لئے میزائلی طاقت سے بہرہ مند ہے اور اسرائیل کو اسی بات سے خوف لاحق ہے۔

Sep ۱۳, ۲۰۱۷ ۱۶:۴۶ UTC
کمنٹس