میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کی حمایت میں دنیا بھر میں مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی سے نوبل انعام واپس لینے کا مطالبہ شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سیکڑوں بچوں نے مظاہرہ کرکے روہنگیا مسلمانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ مظاہرے میں شریک بچے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے کمزور موقف کی مذمت میں نعرے لگا رہے تھے۔روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف پاکستان بھر میں کئی روز سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جس میں روہنگیا مسلمانوں کی امداد کے لیے مسلم ملکوں کے درمیان تعاون کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں بھی بڑی تعداد میں لوگوں نے مظاہرہ کرکے روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں ایسے بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر عالمی اداروں کی خاموشی کی مذمت میں نعرے درج تھے۔مظاہرین نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ بعض اسلامی ملکوں نے بھی صیہونی حکومت کی ساتھ تعلقات بڑھانے کے لیے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔یونان میں ہونے والے مظاہرے کے شرکا نے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کو صیہونی سازش قرار دیتے ہوئے سعودی عرب اور دیگر اسلامی ملکوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات فوری طور پر منقطع کرلیں۔فرانس کے دارالحکومت پیرس میں بھی سیکڑوں لوگوں نے مظاہرہ کرکے روہنگیا مسلمانوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں ایسے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام بند کرو، جیسے نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کے لیے حکومت میانمار پر دباؤ ڈالے۔مظاہرے میں پیرس میں مقیم بعض روہنگیا مسلمان بھی شریک تھے اور وہ آنگ سان سوچی سے امن کا نوبل انعام واپس لینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔مظاہرے کے آخر میں ایک قرارداد بھی پاس کی گئی جس میں دنیا کے تمام ملکوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ میانمار کی حکومت کو اسلحے کی فروخت فوری طور پر بند کردے۔

Sep ۱۷, ۲۰۱۷ ۱۳:۵۳ UTC
کمنٹس