• روہنگیا مسلمانوں کے خلاف میانمار کی فوج کے جرائم پر اقوام متحدہ کی رپورٹ

جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے دفتر نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف فوج کے جرائم اور مظالم کی تصدیق کی ہے۔

جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے دفتر نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ میانمار کی فوج صوبہ راخین میں پانچ لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمانوں کو وحشیانہ طریقے سے ان کے گھروں سے  بے گھر اور ان کے گھروں، زرعی اراضی اور دیہاتوں کو آلگ لگا کر اب انہیں ان کے گھروں کو لوٹنے سے روک رہی ہے-

میانمار سے بنگلہ دیش فرار ہونے والے روہنگیا مسلمانوں میں سے باسٹھ  افراد کے بیانات  پر مشتمل تیار کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف فوج کے حملے پچیس اگست کے اس واقعے سے پہلے ہی شروع ہو گئے تھے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ پچیس اگست کو روہنگیا مسلمانوں نے میانمار کی سیکورٹی فورس پر حملہ کیا تھا-

جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے دفتر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موثق اطلاعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ میانمار کی فوج، جان بوجھ کر صوبہ راخین میں روہنگیا مسلمانوں کے گھروں، ان کی املاک اور زرعی اراضی کو آگ لگا رہی ہے-

مذکورہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کونسل کے عہدیداروں نے ایسی دستاویزات اور ثبوت و شواہد جمع کئے ہیں جن میں دکھایا گیا ہے کہ میانمار کے فوجی روہنگیا مسلمانوں پر اندھا دھند فائرنگ کر کے خواتین بچوں اور بوڑھوں سب کا قتل عام کر رہے ہیں اور ان کے گھروں کو آگ لگا رہے ہیں-

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میانمار کے فوجی اپنی جان بچا کر فرار کرنے والے روہنگیا مسلمانوں کو پیچھے سے گولیاں مار رہے ہیں- رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ میانمار کی فوج نے صوبہ راخین میں مسلمان بچوں اور سن رسیدہ لوگوں کو ان گھروں میں زندہ جلا دیا-

اس درمیان پچھلے ہفتوں کے دوران بنگلہ دیش کے سرحدی علاقے میں پناہ لئے ہوئے روہنگیا مسلمانوں میں ایران کی انسان دوستانہ امدادی اشیا تقسیم کی گئیں-

ایران میں انسان دوستانہ امور سے متعلق بین الاقوامی شعبے کے ایک سینیئر عہدیدار صادق ابراہیمی نے کہا ہے کہ ایران کی طرف سے ارسال کی گئی اشیائے خوراک اور ادویات اور ضروریات زندگی کے دیگر سامان روہنگیا پناہ گزینوں میں تقسیم کردیئے گئے-

صادق ابراہیمی نے کہا ہے کہ دوایرانی اور دو بنگلہ دیشی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے یہ امدادی سامان بنگلہ دیش کے سرحدی علاقے حکیم پارا میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں میں تقسیم کیا-

میانمار کے ڈیڑھ لاکھ مسلمانوں کو حکیم پارا پناہ گزیں کیمپ میں رکھا گیا ہے-

دوسری جانب میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام جاری رہنے کی بابت علاقائی اور عالمی انتباہات کے باوجود میانمار کی فوج اور انتہا پسند بودھسٹ اس علاقے کے مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں اور بنگلہ دیش کی جانب روہنگیا مسلمانوں کی نقل مکانی کا سلسلہ پہلے سے بھی زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ جاری ہے-

Oct ۱۲, ۲۰۱۷ ۱۰:۰۰ UTC
کمنٹس