• امریکی ایوان خودساختہ دو راہے پر

امریکی ایوان نمائندگا کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے ارکان، ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان طے پانے والے جامع ایٹمی معاہدے کے بارے میں ایک بار پھر شش و پنچ میں مبتلا ہو گئے ہیں۔

واشنگٹن میں ایوان نمائندگان کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے ارکان نے جامع ایٹمی معاہدے کے خلاف تند وتیز تقریروں کے باوجود اس معاہدے میں امریکہ کے باقی رہنے اور اس پر سختی کے ساتھ عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

خارجہ تعلقات کمیٹی کے ریپبلکن رکن اسکاٹ پیری نے جامع ایٹمی معاہدے سے پہلے والے الزامات کا اعادہ کرتے ہوئے، یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کا معاہدہ، ہے ہی نہیں۔

دوسری جانب ایوان نمائندگان کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ ایڈ رویئس نے کہا کہ جامع ایٹمی معاہدے میں کتنی ہی خامیاں کیوں نہ ہوں لیکن اس پر پوری سختی کے ساتھ عمل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والے عالمی معاہدے پر پوری شدت کے ساتھ عمل کیا جائے اور اس سلسلے میں واشنگٹن کو اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔

ایوان نمائندگان کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے ڈیموکریٹ رکن ایلیٹ اینجل نے بھی اس موقع پر کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والے جامع ایٹمی معاہدے کو سبوتاژ کرنا بہت سے بڑی غلطی ہوگی کیونکہ امریکہ کے اتحادی ممالک اور دیگر بڑی طاقتیں بھی اس معاہدے کی حمایت کر رہی ہیں۔

عراق، ترکی اور البانیہ میں امریکہ کے سابق سفیر جیمز جیفری نے بھی کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے کے خلاف حد سے زیادہ جارحانہ پالیسی کے نتیجے میں امریکہ کے اتحادی بھی واشنگٹن کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔

اس موقع پر سب سے زیادہ حیرت انگیز بیان انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ انٹرنیشنل سیکورٹی کے سربراہ ڈیوڈ البرائٹ نے دیا جو اس سے پہلے یہ دعوی کر چکے ہیں کہ جامع ایٹمی معاہدہ نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں کیونکہ ٹرمپ یا ان کے کسی بھی نمائندے نے اس پر دستخط نہیں کیے ہیں۔

ڈیوڈ البرائٹ نے، جو ایٹمی معاہدے پر کھلی تنقید کرتے رہے ہیں، مزید کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو جامع ایٹمی معاہدے سے نکلنے کے بجائے اپنے یورپی اتحادیوں کے اتفاق رائے سے معاہدے میں ترمیم کی کوشش کرنا چاہیے۔

دوسری جانب سابق امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے کہا ہے کہ تمام رپورٹوں میں ایران کی جانب سے جامع ایٹمی معاہدے کی پابندی کیے جانے کی تصدیق کی جا رہی ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران کے ساتھ ہونے والا ایٹمی معاہدہ باقی رہے گا کیونکہ ہمارے اتحادیوں نے اس معاہدے پر کافی سرمایہ کاری کی ہے۔جامع ایٹمی معاہدے کے بارے میں امریکی صدر کے ممکنہ اقدامات کے بارے میں جاری تمام تر قیاس آرائیوں کے باوجود ایسا دکھائی دیتا ہے کہ نہ صرف ٹرمپ بلکہ وائٹ ہاوس سے لیکر کانگریس تک پوری امریکی انتظامیہ خود ساختہ دو راہے پر کھڑی ہے۔

اس دو راہے کا ایک راستہ اس عالمی ایٹمی معاہدے کو توڑ کر بین الاقوامی نظام میں امریکہ کی ساکھ برباد کرنے پر ختم ہو گا اور دوسرا راستہ اس معاہدے میں باقی رہ کر ایک اور طرح سے امریکہ کی ساکھ کی بربادی پر منتج ہو گا کیونکہ اس صورت میں ٹرمپ اور جامع ایٹمی معاہدے کے دیگر مخالفین کے پروپیگنڈے کی قلعی کھل کر رہ جائے گی۔

Oct ۱۲, ۲۰۱۷ ۱۴:۲۶ UTC
کمنٹس