• اسرائیل کی دوستی پر یونسکو سے ٹکر

امریکا نے اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (یونیسکو) پر اسرائیل مخالف ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے تنظیم کی رکنیت سے دستبرداری کا اعلان کیا ہے۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکا کا کہنا ہے کہ یونیسکو اسرائیل کے معاملے پر جانبداری کا مظاہرہ کر رہا ہے جس کی وجہ سے امریکا تنظیم کی رکنیت سے دستبردار ہوگیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیتھرنوریٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ جلد ایک مبصر مشن تشکیل دیا جائے گا جو یونیسکو میں امریکا کی نمائندگی کرے گا۔

ہیتھر نوریٹ نے کہا کہ امریکا نے یونیسکو کی سبکدوش ہونے والی ڈائریکٹر جنرل ایرینا بوکووا کو اپنے فیصلے سے آگاہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے یہ فیصلہ بہت غور و فکر کے بعد کیا ہے اور یہ یونیسکو کے حوالے سے امریکی خدشات کا مظہر ہے۔

 یونیسکو میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے جب کہ اسرائیل کے خلاف متعصبانہ رویہ بھی ختم کرنا ہوگا۔

امریکا کی جانب سے یونیسکو کی رکنیت سے دستبردار ہونے کے چند گھنٹوں بعد اسرائیل نے بھی تنظیم کی رکنیت چھوڑنے کا اعلان کردیا۔

یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ امریکا کا رکنیت چھوڑنے کا فیصلہ انتہائی افسوس ناک ہے اور امریکا کی رکنیت ختم ہونے کا عمل دسمبر 2018 میں مکمل ہوگا اوراس وقت تک امریکا یونیسکو کا رکن رہے گا۔

واضح رہے کہ 2011 میں اسرائیل کی سخت مخالفت کے باوجود جب یونیسکو نے فلسطین کو تنظیم کی مکمل رکنیت دی تھی تو امریکا نے اس وقت بھی اس پر ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

امریکہ اب ہرعالمی فورم پرکھل کراسرائیل کو سپورٹ کر رہا ہے اور اگر کسی بھی سطح پراسرائیل کے غیرقانونی،غیرانسانی اورانسانیت سوزمظالم پر کوئی کارروائی ہوتی ہے تو امریکہ عالمی قوانین کو بالائے طاق رکھ کر اس غاصب اور جابر صیہونی حکومت کو بچانے کے لئے میدان میں آتا ہےاور نہ فقط اس کی بے جا حمایت کرتا ہے بلکہ اسرائیل کے خلاف کارروائی کرنے والے اداروں اور ممالک کے مد مقابل آجاتا ہے اور انہیں دھمکیاں دیتا ہے جس کی نئی مثال یونسکو کی رکینت سے علیحدگی اختیار کرنا ہے۔

Oct ۱۳, ۲۰۱۷ ۰۵:۰۷ UTC
کمنٹس