• ایران ایٹمی معاہدے کا پابند ہے، آئی اے ای اے کی نویں رپورٹ

جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ یوکیا آمانو نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بھی ایران کی جانب سے جامع ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔

ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان طے پانے والے جامع ایٹمی سمجھوتے پر عملدرآمد کے بعد سے عالمی ادارے کی نویں، اور امریکی صدر کی جانب کی جانب جامع ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی توثیق نہ کرنے بعد پہلی رپورٹ ہے۔
جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کی جانب سے پیش کی جانے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پانچ نومبر تک ایران میں کم افزودہ یورنیئم کا ذخیرہ جامع ایٹمی معاہدے میں مقرر کی جانے والی سطح سے کہیں کم ہے۔
آئی اے ای اے کی نویں رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ ایران میں یورنیئم کی افزودگی کی شرح ایٹمی معاہدے میں مقرر کی گئی شرح  سے زیادہ نہیں بڑھی ہے۔
اس رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ایران میں بھاری پانی کا ذخیرہ ایک  جامع ایٹمی معاہدہ میں مقرر کی جانے والی حد سے کافی کم ہے۔
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل نے اس رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ ایران نے آئی اے ای اے کو یورینیم کی افزودگی کے عمل کی الیکٹرانک نگرانی کی بھی اجازت دے رکھی ہے تاکہ اس کے ذریعے ایٹمی سرگرمیوں کی معلومات معائنہ کاروں کو ملتی رہیں اور ان کا خود کار طریقے سے ریکارڈ کرنے کے علاوہ فیلڈ میں نصب کنٹرول کے دیگرآلات سے حاصل ہونے والی معلومات کے ساتھ موازنہ کیا جاسکے۔
اتنی واضح اور شفاف رپورٹ کے باجود وائٹ ہاوس نے ایران کے خلاف مشکوک ماحول بنائے رکھنے کی دیرینہ پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے، کسی مستند دستاویز اور ثبوت کے بغیر دعوی کیا ہے کہ ایران نے جامع ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے لہذا اس معاہدے پر دوبارہ مذاکرات ہونا چاہئیں۔
ادھر عالمی سلامتی اور ایٹمی امور میں امریکہ کے سابق نائـب وزیر خارجہ تھامس کنٹری مین نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف بے بنیاد دعوے کرکے امریکہ عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار ہوجائے گا۔

Nov ۱۴, ۲۰۱۷ ۰۹:۵۵ UTC
کمنٹس