• ٹرمپ کو ایٹمی حملے کا اختیار ہے یا نہیں؟ امریکہ بحث چھڑ گئی

ایٹمی حملے کا حکم دینے سے متعلق امریکی صدر ٹرمپ کےاختیار کے بارے میں سینیٹ میں بحث شروع ہوگئی ہے۔

ایک ایسے وقت جب پچھلے چند ہفتوں سے امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان کشیدگی میں بیحد اضافہ ہوگیا ہے اور بعض حلقے دونوں ملکوں کے درمیان جنگ چھڑجانے کا خطرہ ظاہر کررہے ہیں۔
امریکی سینیٹ نے اس معاملے کا جائزہ لینے کے لئےاجلاس تشکیل دیا کہ صدر ٹرمپ کو ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا حکم دینے کا اختیار ہے یا نہیں؟
خبروں میں کہا گیا ہے کہ انیس سو چھہتر کے بعد سے ایسا پہلی بار ہے جب امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی میں اس موضوع پر بحث ہوئی ہے ۔
سینیٹر کرس مورفی نے اس اجلاس میں کہا کہ ہمیں اس بات کا ڈرہے کہ صدر ٹرمپ ایٹمی حملے کا حکم بغیر سوچے سمجھے بھی دے سکتے ہیں۔ سینیٹ میں خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر باب کورکر نے بھی اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ صدرٹرمپ ایٹمی حملے کا فرمان جاری کرسکتے ہیں۔
انہوں نے پچھلے مہینے بھی خبردار کیا تھا کہ شمالی کوریا کے رہنما کے خلاف ٹرمپ کے اشتعال انگیز بیانات امریکا کو تیسری عالمی جنگ میں دھکیل سکتے ہیں۔
اس اجلاس میں امریکی فوج کے سینیئر ریٹائرڈ جنرل رابرٹ کوہلر نے بھی کہا کہ فوج ملک کے صدر کے فرمان کو اگرغیرقانونی ہو تو ماننے سے انکار کرسکتی ہے خواہ یہ فرمان ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق ہی کیوں نہ ہو۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے جنگ پسندانہ بیانات کے بعد امریکا اور شمالی کوریا میں کشیدگی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ٹرمپ نے بارہا شمالی کوریا کو دھمکی ہے کہ اس کے خلاف ہر آپشن میز پر موجود ہے۔

Nov ۱۵, ۲۰۱۷ ۱۴:۰۴ UTC
کمنٹس