• بیت المقدس کے بارے میں ٹرمپ کے فیصلے کی مخالفت جاری

امریکی صدر کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے غیر قانونی اعلان پر روس نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاو روف نے امریکی صدر کے اعلان پر علمدرآمد کے نتائج کی بابت خبر دار کرتے ہوئے اپنے امریکی منصب سے وضاحت پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ویانا میں یورپی سیکورٹی اور تعاون کی تنطیم کے اجلاس کے موقع پر اپنے امریکی ہم منصب ریکس ٹلرسن سے بات چیت کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ وہ اس بات کی وضاحت کریں کہ امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے بیت المقدس منتقلی کا محرک اور وجہ کیا ہے اور یہ بھی بتائیں کہ اس اقدام کے کیا نتائج تصور کیے جاسکتے ہیں۔روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ماسکو نے امریکہ سے کہہ دیا ہے کہ بیت المقدس کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فیصلہ، عرب اور اسلامی ملکوں، عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کے لیے انتہائی تشویش کا باعث بنا ہے۔دوسری جانب سی این این نے بتایا ہے کہ یورپی یونین کے امور خارجہ کی انچارج فیڈریکا موگرینی نے بھی امریکی صدر کے اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کے اس فیصلے نے، مشرق وسطی میں امریکہ کے مصالحت کارانہ کردار پر سوالیہ نشانہ لگا دیئے ہیں۔جرمن چانسلر اینجلا مرکل نے بھی بیت المقدس کے مستقبل کو مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے طے کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ناروے کی وزیر اعظم ارنا سولبرگ نے بھی بیت المقدس کے بارے میں ٹرمپ کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے مذاکرات کا عمل سبوتاژ ہوجائے گا۔بیلاروس کی وزارت خارجہ نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بیلاروس اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔پولینڈ کی وزارت خارجہ نے بھی امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے بیت المقدس منتقلی کے فیصلے کو امن مذاکرات کے منافی قرار دیتے ہوئے مسئلہ فلسطین کے تمام فریقوں پر زور دیا کہ ہے کہ وہ معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔فرانس کے سابق صدر فرانسوا اولینڈ نے بھی ٹرمپ کے اس فیصلے پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے مشرق وسطی میں عدم استحکام کا باعث قرار دیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے علاقائی اور عالمی سطح پر شدید مخالفت کے باوجود اسرائیل کے مجرمانہ اور توسیع پسندانہ اقدامات کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے، بدھ  کے روز بیت المقدس کو صیہونی حکومت کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔بیت المقدس شہر جہاں مسلمانوں کا قبلہ اول مسجد الاقصی واقع ہے ، فلسطین کا اٹوٹ حصہ ہے جہاں عالم اسلام کے تین اہم اور مقدس مقامات ہیں اور مسلمانوں کے نزدیک یہ شہر انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

Dec ۰۸, ۲۰۱۷ ۱۰:۰۲ UTC
کمنٹس