• بیت المقدس کی حمایت میں دنیا بھر میں مظاہرے

امریکی صدر کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور سفارت خانے کی منتقلی کے فیصلے کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

ہزاروں برطانوی شہریوں نے جمعے کی شب دارالحکومت لندن کی سڑکوں پر مارچ کیا اور بیت المقدس کے بارے میں امریکی صدر کے اشتعال انگیز اور متنازعہ اعلان کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔
مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں ایسے بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھتے تھے جن پر امریکی صدر کے اعلان کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نعرے لگا رہے تھے کہ ٹرمپ کو مٹی میں گاڑ دو، فلسطین کو آزاد کرو، برطانیہ امریکہ خصوصی تعلقات ختم کرو۔
یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں بھی امریکی سفارت خانے کے سامنے ایسا ہی مظاہرہ کیا گیا جس میں شریک لوگوں نے امریکی پرچم بھی نذر آتش کیا۔ ایتھنز کے مظاہرے میں شریک لوگ فلسطینیوں کے خلاف امریکی صدر کے مخاصمانہ اعلان کی مذمت میں نعرے بھی لگا رہے تھے۔
مظاہرین نے بیت المقدس کو عالم اسلام اور فلسطین کا اٹوٹ حصہ قرار دیا اور عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلمانوں اور فلسطینیوں کے خلاف امریکی صدر کی دشمنی پر خاموش نہ رہیں۔
اسپین کی مسلمان برادری نے بھی اپنے مشترکہ بیان میں امریکی اقدام کے خلاف عالمی اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مسلمانوں سے باہمی اتحاد و یکجہتی کا مطالبہ کیا ہے۔
قاہرہ میں ہزاروں لوگوں نے بیت المقدس کے بارے میں امریکی صدر کے مخاصمانہ اعلان کے خلاف زبردست مظاہرے کیے اور امریکی صدر کو مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن قرار دیا۔
مظاہرین نے اسرائیل مردہ باد اور القدس کے لیے جان بھی قربان ہے جیسے نعرے لگاتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کے پرچم بھی نذر آتش کیے۔ مصری عوام نے تمام عرب ملکوں سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات ختم اور اسرائیل میں اپنے سفارت خانے بند کردیں۔
افریقی ملک صومالیہ میں امریکی صدر کے اشتعال انگیز اعلان کے خلاف بہت بڑا مظاہرہ کیا گیا جس میں شریک لوگ مردہ باد امریکہ اور مردہ باد ٹرمپ کے نعرے لگا رہے تھے۔
مراکش کے دارالحکومت رباط میں بھی ہزاروں شہریوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے جمع ہوکر مظاہرہ کیا اور امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی کے اعلان کو عالمی قوانین اور امن و سلامتی کے منافی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
افغانستان کے مختلف شہروں بھی بیت المقدس کے بارے میں امریکی صدر کے اعلان کے خلاف احتجاج اور مظاہرے کیے جارہے ہیں۔ ہمارے نمائندے کے مطابق ہزاروں افغان شہریوں نے دارالحکومت کابل، قندوز اور ہرات میں مظاہرے کرکے بیت المقدس کے بارے میں امریکی صدر کے اعلان کی مذمت کی ہے۔
کابل میں ہونے والے ایک بڑے مظاہرے کے اختتام پر ایک بیان بھی پڑھ کر سنایا گیا جس میں حکومت افغانستان سے مطالبہ کیا گیا ہے وہ فوری طور پر امریکہ سے سفارتی تعلقات توڑ کر، امریکی سفارت خانہ بند اور امریکی فوجیوں کو ملک سے نکال دے۔
پاکستان اور ہندوستان کے مختلف شہروں سے بیت المقدس کے بارے میں امریکی صدر کے اشتعال انگیز اور متنازعہ اعلان کے خلاف مظاہروں اور احتجاج کی خبریں مسلسل موصول ہورہی ہیں۔

Dec ۰۹, ۲۰۱۷ ۱۰:۵۸ UTC
کمنٹس