• اقوام متحدہ کی جانب سے میانمار میں تشدد روکنے کا مطالبہ

روہنگیا مسلمان عالمی وعدوں کے باوجود کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی خصوصی نمائندے محترمہ پرمیلا نے کہا ہے کہ میانمار کی فوج کی طرف سے راخین صوبے کے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف انسانیت سوز اور دل دہلانے والے مظالم، تشدد اور جنسی ظلم و ستم کے خوفناک واقعات کے پیش نظر سلامتی کونسل کے نمائندوں کو تشدد زدہ علاقوں کا دورہ کرکے میانمار کی حکومت سے تشدد روکنے کا مطالبہ کرنا چاہئے۔

پرمیلا پیٹن نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ کچھ عینی شاہدین کے مطابق عورتوں اور لڑکیوں کو پتھر یا درخت سے باندھ دیا جاتا تھا اورفوجی اہلکارانہیں اجتماعی جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کر دیتے تھے. کچھ خواتین نے بتایا کہ فوج کی طرف سے نوزائیدہ بچوں کو گاؤں کے کنویں میں پھینک دیا جاتا تھا. کچھ خواتین نے بتایا کہ انہیں فوج کے جوان جنسی زیادتی کے لئے گھروں سے گھسیٹ کر لے گئے اور ان کے بچوں کو آگ لگا دی۔

 

Dec ۱۳, ۲۰۱۷ ۰۶:۰۹ UTC
کمنٹس