• بے گھر امریکی شہریوں کا وائٹ ہاؤس کے قریب ڈیرہ

غیر ملکی نیوز ایجنسی نے واشنگٹن سے ایک ایسی رپورٹ ارسال کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکا میں ایسے بے گھر افراد کہ جن کے پاس رہنے کے لئے مکان اور سر چھپانے کے لئے چھت نہیں ہے شدید سردی کے موسم میں وائٹ ہاؤس کے قریب ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں۔

فرانس پرس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سردی کا یہ عالم ہے کہ گدّوں اور کمبلوں سے بھی کھلے آسمان زندگی بسر کرنے والے ان امریکی شہریوں کو سردی کی مار سے راحت نہیں مل رہی ہے-

انتہائی شدید سردی کے موسم میں، جس نے شمال مشرقی امریکا کے باشندوں کی زندگی مفلوج کر کے رکھ دی ہے، واشنگٹن کے بے گھر افراد ان خیموں میں کہ جنھیں وہ اپنے گھر کے طور پر استعمال کرتے ہیں  اور جو وائٹ ہاؤس سے تھوڑے سے ہی فاصلے پر لگے ہوئے ہیں خود کو گرم نہیں رکھ پا رہے ہیں-

واشنگٹن میں اس وقت تقریبا ساڑھے سات ہزار لوگ ایسے ہیں کہ جن کے پاس سر چھپانے کی کوئی جگہ نہیں ہے اور وہ نقطہ انجماد سے دس درجہ نیچے سردی کے اس موسم میں معمولی خیموں یا پھر کھلے آسمان میں زندگی بسر کر رہے ہیں-

واشنگٹن میں مکانات کے کرائے اتنے مہنگے ہیں کہ وہی لوگ کرائے پر مکان لے سکتے ہیں کہ جن کی تنخواہیں کافی زیادہ ہوتی ہیں-

اس درمیان امریکی ذرائع ابلاغ نے کہا ہے کہ ٹیکساس اور شمالی کیرولینا کی ریاستوں میں متعدد بے گھر افراد سخت سردی کی وجہ سے موت کی نیند سو چکے ہیں-

امریکی شہروں شیکاگو اور بوسٹن میں بھی بے گھر افراد کی صورت حال انتہائی افسوسناک ہے-

نیویارک میں بے گھر افراد کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ خیراتی اداروں نے اپنے یہاں بیڈ اور بستروں کی تعداد بڑھا دی ہے جبکہ ان خیراتی اداروں کی سروسز بھی بے گھر افراد کے لئے کافی نہیں ہیں لیکن جن کے پاس سر چھپانے کے لئے کوئی بھی جگہ نہیں ہے وہ بد اور بدتر میں سے ایک کا انتخاب کرنے پر تو مجبور ہو ہی جاتے ہیں-

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا میں بے گھر افراد کا بحران روز بروز بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ حکومتی سطح پر اس بحران کو حل کرنے کے لئے کوئی سیاسی ارادہ نہیں دیکھا جا رہا ہے اور حکومت، بجٹ کا زیادہ حصہ فوجی اخراجات پر ہی صرف کرتی ہے-

بے گھر لوگوں کی مدد کرنے والی کمیٹی SOME کے شعبہ تعلقات عامہ کی انچارج کیٹ ویلی کا کہنا ہے کہ گذشتہ پانچ برسوں کے دوران امریکا میں ایسے لوگوں کی تعداد میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے جن کے پاس سر چھپانے کی کوئی جگہ نہیں ہے-

واضح رہے کہ امریکا میں امیروں اور غریبوں کے درمیان فاصلہ اتنی تیزی کے ساتھ بڑھا ہے کہ متوسط طبقے کا اب تو نام و نشان ہی بتدریج ختم ہوتا جا رہا ہے۔  

 

Jan ۰۸, ۲۰۱۸ ۱۳:۵۸ Asia/Tehran
کمنٹس