• ایٹمی معاہدے کے بارے میں ٹرمپ اور میکرون کی ٹیلی فونی گفتگو

ایک ایسے وقت جب وائٹ ہاؤس نے ایٹمی معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی اسٹریٹیجی پر ساری توجہ مرکوز کر رکھی ہے وہیں ساتھ میں اس کی یہ بھی کوشش ہے کہ علاقائی مسائل اور انسانی حقوق کے بارے میں بھی ایران پردباؤ ڈالے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے فرانسیسی ہم منصب امانوئل میکرون سے ٹیلی فونی گفتگو میں ایک بار پھر ایران پر عدم استحکام پیدا کرنے والے اقدامات انجام دینے کا الزام عائد کیا ہے۔

اس درمیان الیزہ پیلیس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امانوئیل میکرون نے اس ٹیلی فونی گفتگومیں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ہوئے ایٹمی معاہدے پر مکمل عمل درآمد کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

میکرون اور ٹرمپ کی یہ ٹیلی فونی گفتگو ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب امریکی صدر جمعے کو کسی وقت ایران پر عائد پابندیوں کو معطل رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں اپنے فیصلے کا اعلان کرنے والے ہیں۔

امریکی وزیرخزانہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف نئی پابندیاں ‏عائد کرنے کا پروگرام بنار ہا ہے۔

امریکی وزیرخزانہ نے اسٹیو منوشن نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ امریکا کی ساری کوشش ایران پر مرکوز ہے کہا کہ اس وقت ایران پر جتنی پابندیاں عائد ہیں اتنی دنیا کے کسی بھی ملک پر عائد نہیں ہیں۔

امریکی وزیرخزانہ نے دعوی کیا کہ ایران کے خلاف نئی پابندیاں ایٹمی معاہدے کے دائرہ کار سے ہٹ کر ہوں گی۔

وائٹ ہاؤس نے بھی اپنے بیان میں ایران  پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ امریکی حکومت اس سلسلے میں خاموش نہیں رہے گی۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارا سینڈرز نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ ایٹمی معاہدے میں بہت سے نقائص پائے جاتے ہیں کہا کہ امریکی حکومت، کانگریس اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ ان نقائص کو برطرف کیا جائے۔

ٹرمپ پہلے بھی بارہا ایٹمی معاہدے میں شامل دیگر فریقوں کے برخلاف یہ کہہ چکے ہیں کہ ایٹمی معاہدہ ایک وحشتناک اور برا معاہدہ ہے۔

امریکا کے داخلی قوانین کے مطابق اس ملک کا صدر اس بات کا پابند ہے کہ وہ تین مہینے پر یہ رپورٹ کانگریس میں پیش کرے کہ ایران نے ایٹمی معاہدے پر عمل کیا ہے یا نہیں ؟ ٹرمپ نے گذشتہ تیرہ اکتوبر کواس وقت تک آئی اے ای اے کی آٹھ رپورٹوں کے بر خلاف جن میں کہا گیا تھا کہ ایران نے ایٹمی معاہدے کی مکمل پابندی کی ہے ایران کے ذریعے ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کی تصدیق کرنے سے گریز کیا تھا۔

ٹرمپ کے اس اقدام کے بعد کانگریس کے پاس ساٹھ روز کی مہلت تھی کہ وہ  ایران کے خلاف ان پابندیوں کے بارے میں دوبارہ  فیصلہ کرے جنھیں ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کے بعد معطل کردیا گیا تھا لیکن اس نے اس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کیا اور اب دوبارہ ٹرمپ کی باری ہے کہ وہ اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کریں۔

اگر امریکی صدر ایران کے خلاف پابندیوں کو معطل نہیں رکھتے ہیں تو واشنگٹن عملی طور پر ایٹمی معاہدے سے نکل جائےگا۔  یہ وہ ممکنہ اقدام ہے جس کی عالمی برادری شدید مخالفت کررہی ہے۔

 

ٹیگس

Jan ۱۲, ۲۰۱۸ ۱۴:۰۹ Asia/Tehran
کمنٹس