• سوچی کی جانب سے مسلمانوں کے قتل عام کی حمایت

میانمار کی نوبل انعام یافتہ رہنما اور خارجہ امور میں حکومت میانمار کی مشیر اعلی آنگ سان سوچی نے ایک بار پھر فوج کے ہاتھوں روہنگیا مسلمانوں کے قتل کی حمایت کی ہے۔

میانمار کی فوج نے بدھ کے روز اعتراف کیا ہے کہ اس نے صوبہ راخین میں انتہا پسند بدھسٹوں کی مدد سے دس روہنگیا مسلمانوں کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاشیں اجتماعی قبر میں دفن کر دی تھیں۔
انسانی حقوق اور جمہوریت کا بے جا راگ الاپنے والی آنگ سان سوچی نے جاپانی وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فوج کے اعتراف کو جہاں مثبت قرار دیا وہیں ایک بار پھر یہ بات زور دے کر کہی کہ فوج، قانون پر عملدرآمد کر رہی ہے۔
آنگ سان سوچی اس سے پہلے بھی مظلوم روہنگیا مسلمانوں کے خلاف فوجی آپریشن کی حمایت کر چکی ہیں جس پر انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور سیاسی حلقوں نے کڑی نکتہ چینی کی تھی۔
پچیس اگست دو ہزار سولہ سے اب تک میانمار کی فوج اور انتہا پسند بدھسٹوں کے حملے میں چھے ہزار سے زائد روہنگیا مسلمان شہید اور آٹھ ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ میانمار کی فوج اور انتہا پسند بدھسٹوں کے حملوں سے جان بچا کر بھاگنے والے ساڑھے چھے لاکھ کے قریب روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش، ہندوستان اور دیگر ہمسایہ ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

 

Jan ۱۴, ۲۰۱۸ ۱۱:۴۱ UTC
کمنٹس