• سلامتی کونسل کی یمن مخالف قرارداد میں ایران کے خلاف ماحول سازگار بنائے جانے پر روس کی مخالفت

اقوام متحدہ میں روس کے نمائندے نے سلامتی کونسل میں یمن کے خلاف پابندیوں سے متعلق قرارداد میں ایران کے خلاف ماحول سازگار بنائے جانے کی مخالفت کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ میں تعینات روسی مندوب ویسلے نیبنزیا نے مغربی حمایت یافتہ ایران مخالف قرارداد کی مخالفت کر دی۔ اس قرارداد کے تحت بعض مغربی ممالک نے یمن کو ہتھیار فراہم کرنے کا الزام ایران پرعائد کیا تھا اور اسی بہانے سے ایران کی مذمت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ قرارداد، یمن سے متعلق اور اس ملک میں اقوام متحدہ کے ماہرین کے گروپ کے مشن کی مدت بڑھائے جانے کے بارے میں ہے جس کا ایران سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اس سے پہلے برطانیہ، امریکہ اور فرانس کے نمائندوں نے ایک مشترکہ بیان کے ذریعے ایران کے خلاف زہریلی فضا بنانے کی کوشش کی اور یمن کے خلاف ہتھیاروں کی پابندیوں میں ایک سال کی توسیع کرتے ہوئے اس سلسلے میں ایران پر خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کرنے کی کوشش کی گئی۔
ان ملکوں کے حکام نے گذشتہ دنوں ایسے ہی بیانات اور مضامین میں ایران کے خلاف ماحول سازگار بنانے کی بہت کوشش کی ہے۔
اس قرارداد کی منظوری کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے نو رکن ممالک کی حمایت کی ضرورت ہے بشرطیکہ کوئی مستقل رکن ملک اسے ویٹو بھی نہ کرے۔ جبکہ سلامتی کونسل میں ایک باخبر سفارت کار نے روئٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ روس اس قسم کی، کسی بھی قرارداد کے خلاف ہے۔
ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی اس سلسلے میں ایران کے خلاف ماحول سازگار بنائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے گزشتہ دنوں میزائل پروگرام کو ایران کے تحفظ اور دفاع کی ضمانت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہر جانب سے ناکہ بندی کا شکار ہونے والے یمن کو میزائل فراہم کرنے کا ایران پر الزام بالکل بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی نیز من گھڑت ہے۔
بہرام قاسمی نے کہا کہ یمن مکمل محاصرے میں ہے اور اسے میزائل فراہم کرنے کے الزامات سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں اور ایسے الزامات کا مقصد یمن پر جارحیت کرنے والوں کے جرائم پر پردہ ڈالنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یمن میں بھوک مری، قحط اور معاشی مسائل نیز دواؤں کی قلت کی بنا پر لوگوں میں مختلف قسم کی بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں۔ اس کے باوجود انھیں سعودی عرب کی وحشیانہ جارحیت و بمباری کا سامنا ہے اور پھر بھی وہ استقامت کا مظاہرہ کر رہے ہیں جبکہ انھیں ابتدائی ضرورت کا سامان تک میسر نہیں ہے۔
مغربی ممالک ایسی حالت میں ایران پر یمن کی تحریک مزامحت کو ہتھیار فراہم کرنے کا الزام لگا رہے ہیں کہ وہ برسوں سے سعودی عرب اور اس کے اتحاد میں شامل دیگر ملکوں کو وسیع پیمانے پر ہتھیار فروخت کر کے اس غریب عرب ملک میں بے گناہ لوگوں کے قتل و خونریزی کا باعث بنے ہوئے ہیں جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں حالانکہ یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے بارہا تاکید کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ ان کی دفاعی طاقت و توانائی مکمل مقامی ہے اور یمن کے پورے محاصرے کے باوجود اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

Feb ۲۲, ۲۰۱۸ ۱۸:۳۶ Asia/Tehran
کمنٹس