• امریکی وزیر خارجہ کی برطرفی پر ردعمل

ریکس ٹلرسن کی برطرفی پر امریکہ میں ملاجلا ردعمل سامنے آیا ہے جبکہ ٹرمپ نے ٹلرسن کے معاون، اسٹیو گولڈ اسٹائن کو بھی ان کے عہدے سے برطرف کر دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کو ان کے عہدے سے برطرف اور سی آئی اے کے سربراہ مائک پومپئو کو نیا وزیر خارجہ نامزد کیا ہے۔
وزیر خارجہ نامزد کیے جانے کے بعد مائک پومپئو نے دعوی کیا ہے کہ وہ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی سلامتی کو پوری طرح محفوظ بنائیں گے اور کانگریس کی جانب سے اپنے عہدے کی توثیق کی صورت میں امریکی صدر کی خارجہ پالیسیوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے بہترین سفارت کاری سے کام لیں گے۔
بہرحال ٹلرسن کی برطرفی او پومپئو کی بطور وزیر خارجہ نامزدگی پر امریکہ کے اندر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔
ایوان نمائندگان کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ ایڈ روئیس نے دعوی کیا ہے کہ ٹلرسن کی کوششوں کے نتیجے میں ایران کی جانب سے پائے جانے والے خطرات کے مقابلے میں امریکہ کے لیے نئے راستے اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اون پر بھی دباؤ کی اسٹریٹیجی کا تعین ہوا۔
دوسری جانب رائٹرز نیوز ایجنسی نے خبر دی ہے کہ روس اور شمالی کوریا کے معاملے پر صدر ٹرمپ اور وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے درمیان سب سے زیادہ اختلافات تھے۔
ٹرمپ کے دور صدارت کو ایک سال مکمل ہونے کے محض تھوڑے ہی عرصے بعد امریکی کابینہ میں اتنی بڑی تبدیلی ایسے موقع پر کی گئی ہے جب واشنگٹن، شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اون کے ساتھ مذاکرات کی تیاری کر رہا ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ نے جمعے کے روز وزیر خارجہ ٹلرسن سے مستعفی ہونے کی اپیل کی تھی لیکن ٹلرسن کے دورہ افریقہ کی وجہ سے خبر کو عام نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔
ٹلرسن کی برطرفی کا اعلان ان کے دورہ افریقہ کے اختتام کے محض چند گھنٹے بعد ہی کیا گیا جب کہ وہ اس دورے کو ادھورا چھوڑ کر امریکہ واپس پہنچے تھے۔
اسی دوران وائٹ ہاوس کے اعلی عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے ساتھ تاریخ ساز مذاکرات کے لیے بالکل نئی ٹیم تشکیل دینا چاہتے ہیں۔
روزنامہ ہافنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکہ کے نامزد وزیر خارجہ مائک پومپئو نے ایران کی صورت حال کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے اور جنگ کے اخراجات کو معمولی ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایران کے خلاف جنگ سے متعلق مائک پومپئو کی درخواستوں سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ملک کی وزارت خارجہ پر ان کا انتخاب ایک سانحہ ہے اور اس کا انجام اچھا نہیں ہو گا۔
درایں اثنا اطلاعات ہیں امریکہ کے شرپسند صدر نے ریکس ٹلرسن کو وزیر خارجہ کے عہدے سے برطرف کرنے کے بعد ان کے معاون اسٹیو گولڈ اسٹائن کو بھی ان کے عہدے سے برطرف کر دیا۔ کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ نے نائب وزیر خارجہ برائے جنرل افیئر اسٹیو گولڈ اسٹائن کو محض اس لیے برطرف کر دیا کیونکہ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ نہیں جانتے کے ریکس ٹلرس کو کیوں ان کے عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔

ٹیگس

Mar ۱۴, ۲۰۱۸ ۱۵:۱۷ Asia/Tehran
کمنٹس