• روس میں صدارتی اتنخابات کے لئے پولنگ

روس میں صدارتی انتخابات کے لئے ووٹنگ ہوئی ہے جس میں صدر ولادیمیر پوتین سمیت آٹھ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔

ماسکو سے ہمارے نمائندے کے مطابق روس کے مشرقی اور مغربی علاقوں میں وقت میں پائے جانے والے فرق کے لحاظ سے صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ ماسکو کے وقت کے مطابق رات بارہ بجے شروع ہو گئی تھی۔
روسی الیکشن کمیشن کے مطابق ملک کے تمام شہروں میں پولنگ مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے شروع اور شام سات بجے تک جاری رہے گی۔ جبکہ ماسکو سمیت بڑے شہروں میں پولنگ کے وقت میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے۔
ملک کے تین سو نوے پارلیمانی حلقوں میں ستانوے ہزار پولنگ مراکز قائم کیے گئے ہیں جبکہ دنیا کے ایک سو اکتالیس ملکوں میں بھی روس کے صدارتی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔
روس کی چودہ کروڑ ساٹھ لاکھ کی آبادی میں دس کروڑ نوے لاکھ لوگ ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ روسی میڈیا کے مطابق صدارتی انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ تریسٹھ سے سڑسٹھ فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔
صدارتی انتخابات میں صدر ولادیمیر پوتن کے علاوہ سات دیگر امیدوار بھی میدان میں ہیں جن میں پاول گرودینین، ولادیمیر ژیرونوفسکی، سرگئی بابورین، گریگوری یولنسکی، بورس تیتوف، ماکسیم سریکین اور خاتون امیدوار کسنیا سابچاک شامل ہیں۔
رائے عامہ کے تازہ ترین جائزوں کے مطابق موجودہ صدر ولادیمیر پوتین کی فتح کے امکانات پوری طرح سے روشن ہیں۔
روس میں صدارت کی مدت پہلے چار سال تھی جسے سن دو ہزار آٹھ میں بڑھا کر چھے سال کر دیا گیا تھا۔ صدر ولادیمیر پوتین اس سے پہلے بھی تین بار روس کے صدر رہ چکے ہیں۔
توقع کی جا رہی ہے کہ صدر ولادیمیر پوتین چوتھی بار بھی روس کے صدر منتخب ہو جائیں گے۔ جس کے نتیجے میں روس کی عالمی اور علاقائی پالیسیوں میں تسلسل باقی رہے گا جبکہ امریکہ اور مغربی ملکوں کے ساتھ یوکرین، جزیرہ نمائے کریمیا اور شام کی صورت حال اور بہت سے دیگر معاملات پر کشکمش جاری رہنے کی توقع ہے۔
روس اور مغرب کے درمیان تعلقات میں مذکورہ معاملات پر سخت کشیدگی پائی جاتی ہے اور بعض معاملات پر دونوں کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث سفارت کاروں کے انخلا تک پہنچ گئی ہے۔
روس اور مغرب دونوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کے تعلقات سرد جنگ دور کی طرح اپنی نچلی ترین سطح پر آگئے ہیں۔

Mar ۱۸, ۲۰۱۸ ۱۴:۲۲ Asia/Tehran
کمنٹس