Apr ۱۵, ۲۰۱۸ ۱۱:۳۸ Asia/Tehran
  • شام پر امریکی جارحیت کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے

شام پر امریکی جارحیت کے خلاف امریکہ، جرمنی، یونان، فلسطین اور پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں مظاہرے ہوئے۔

یونان کے عوام نے دارالحکومت ایتھنز میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی شام پر جارحیت کے خلاف ان ملکوں کے سفارتخانوں کی جانب احتجاجی مارچ کیا اور جنگ مخالف نعرے لگائے۔ مظاہرین نے شام پر فوری طور پر حملوں کو بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

 جرمنی کے دارالحکومت برلن میں بھی عوام سڑکوں پرنکل آئے اور شام پر امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے میزائلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے شام کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔

واشنگٹن میں بھی عوام نے شامی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مظاہرہ کیا اور حملوں کی مذمت کی۔ فلسطینی عوام نے حیفا میں امریکی قونصلیٹ کے سامنے شام پر حملوں کے خلاف احتجاج کیا۔

روم میں بھی جنگ مخالف تنظیموں نے امریکی سفارتخانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور شام پر امریکی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے اسے شام کی ارضی سالمیت کے خلاف قرار دیا۔

ادھر پاکستان میں بھی امریکی جارحیت کے خلاف لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاجی ریلی نکالی۔

اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام شام پر امریکا، برطانیہ اور فرانس کے فضائی حملے کے خلاف اور نہتے مظلوم شامی عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے بھٹ شاہ میں اللہ والے چوک تا پریس کلب احتجاجی ریلی نکالی گئی، احتجاجی ریلی میں طلبا و شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اے ایس او کے مرکزی صدرقمر عباس غدیری نے کہا کہ ہمارا دل بی بی سیدہ زینب سلام اللہ علیہ کے حرم مطہر کے ساتھ دھڑکتا ہے، انسانیت کا قتلعام و ظلم بربریت کا سرچشمہ شیطان بزرگ امریکا اور اس کے حواری ہیں، نام نہاد اقوام متحدہ اس ظلم پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے کہا ہے کہ وہ شام میں عام شہریوں کی حفاظت کرے۔

 ایمنسٹی انٹرنیشنل یو ایس اے کے ترجمان رائد جرار نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شام کے عوام پہلے ہی چھ سال سے انتہائی تباہ کن حملے برداشت کر رہے ہیں کسی بھی عسکری کارروائی میں عام شہریوں کا نقصان کم سے کم کرنے کے لیے احتیاطی تدابیراختیارکرلینی چاہئیں۔

واضح رہے کہ امریکہ،برطانیہ اور فرانس نے کیمیائی ہتھیاروں کا بہانہ بنا کربغیر کسی ثبوت کے کل صبح شام پر میزائلی حملہ کیا جس پرعالمی سطح پر سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ حالانکہ 3 سال قبل اقوام متحدہ نے شام کو کیمیائی ہتھیاروں سے پاک قرار دیا تھا جبکہ یہ حملہ ایسے میں کیا گیا کہ جب شام کی فوج نے داعش اور جبھتہ النصرہ جیسے دہشتگرد گروہوں کو شکست دی تھی جس سے بخوبی دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ اور اس کے بعض اتحادی داعش اور جبھتہ النصرہ جیسے دہشتگرد گروہوں کی شکست سے نہ فقط خوش نہیں ہیں بلکہ وہ ان دہشتگردوں کو بچانے کیلئے دہشتگردی کا مقابلہ کرنے والے فرنٹ لائن کے ملکوں اور تحریکوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور شام پر حملہ بھی اسی لئے کیا گیا ہے۔

ٹیگس