• گوئٹے مالا بھی امریکا کے نقشِ قدم پر

گوئٹے مالا نے امریکا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مقبوضہ بیت المقدس میں اپنا سفارتخانہ کھول دیا۔

بین الاقوامی میڈیا  کے مطابق امریکی سفارتخانے کی تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقلی پر عالمی مذمتوں اور 60 سے زائد فلسطینیوں کی شہادتوں کے باوجود گوئٹے مالا نے امریکی ہٹ دھرمی کی تقلید کرتے ہوئے دو روز بعد ہی اپنا سفارخانہ القدس منتقل کردیا۔

سفارتخانے کی افتتاحی تقریب میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور گوئٹے مالا کے صدر جیمی مورالس سمیت دونوں ممالک کے وفود نے شرکت کی۔

گوئٹے مالا دوسرا ملک تھا جس نے 1948 میں اسرائیل کے قیام کو بطور ریاست تسلیم کیا تھا جبکہ ان دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کی ایک تاریخ ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ اپنے زیر اثر ملکوں پر اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اپنا دارالحکومت مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے لئے مسلسل دباو ڈال رہا ہے۔

May ۱۷, ۲۰۱۸ ۰۸:۵۵ Asia/Tehran
کمنٹس