•  ایٹمی معاہدے کی حفاطت کی جائے گی، تین بڑے یورپی ملکوں کا اعلان

بلغاریہ میں یورپی یونین کے رکن ملکوں کے سربراہی اجلاس کے بعد برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے سربراہوں نے ایک بار پھر تمام شرطوں کے ساتھ ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

برطانوی وزیراعظم تھریسا مئے، جرمن چانسلر انجیلا مرکل اور فرانسیسی صدر امانوئیل میکرون نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے کے سبھی فریقوں کو معاہدے کی تمام شرطوں کی پابندی کرنا ہوگی-
ان تینوں ملکوں نے ایران سے ایٹمی معاہدے پر کاربند رہنے کی درخواست کرتے ہوئے خود بھی اس کی حفاظت کی ضمانت دینے کے اپنے وعدوں پرعمل کرنے کا اعلان کیا ہے-
تینوں یورپی ملکوں نے اپنے مشترکہ بیان میں جہاں ایٹمی معاہدے کی حفاظت پر زور دیا ہے وہیں ساتھ ہی ایران کے میزائل پروگرام کا مقابلہ کرنے کی بھی بات کی ہے-
جرمنی، برطانیہ اور فرانس کے سربراہوں نے بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ میں یورپی یونین کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ایٹمی معاہدے کے بارے میں الگ سے سہ فریقی اجلاس بھی تشکیل دیا-
جرمن چانسلر نے یورپی یونین کے اجلاس میں شرکت کے لئے بلغاریہ پہنچنے پر کہا کہ یورپی یونین کے رکن ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ ایٹمی معاہدہ ایک مکمل معاہدہ نہیں لیکن ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے باوجود اس کی حفاظت کی جانی چاہئے-
فرانسیسی صدر میکرون نے بھی کہا ہے کہ یورپی یونین کی ان کمپنیوں کی جو ایران کے ساتھ کام کر رہی ہیں امریکی پابندیوں کے مقابلے میں حفاظت کی جانی چاہئے-
اطالوی وزیراعظم پاؤلو جنٹیلونی نے بھی جو یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے صوفیہ میں موجود تھے، کہا کہ ان یورپی کمپنیوں کو جو ایران کے ساتھ کام کر رہی ہیں امریکی پابندیوں کا سنجیدہ خطرہ ہے لیکن یورپ ان کمپنیوں کی ہر طرح سے حمایت کرے گا-
اطالوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کو ختم کرنے کے مطالبے کے سامنے نہیں جھکیں گے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ایٹمی معاہدے کا تحفظ صحیح ہے کیونکہ یہ معاہدہ پچھلے چند برسوں کے دوران بین الاقوامی سفارتی میدان میں ایک بڑی کامیابی ہے-
دوسری جانب یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے اپنے ٹویٹر پیج پر لکھا ہے کہ امریکی صدر نے ایران کے ساتھ ہوئے ایٹمی معاہدے سے نکل کر امریکا اور یورپ کے تعلقات کو سخت دھچکا پہنچایا ہے-
انہوں نے کہا کہ دونلڈ ٹرمپ کے تازہ ترین فیصلوں پر نظر ڈالنے سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ٹرمپ جیسے دوستوں کے ہوتے ہوئے کسی دشمن کی کیا ضرورت ہے-
ڈونلڈ ٹسک نے اپنے طنزیہ ٹوئٹ میں کہا کہ ان تمام باتوں کے باوجود ہم سچی بات کہہ رہے ہیں کہ یورپی یونین کو ٹرمپ کی مہربانی کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ ہم لوگ ابہام سے باہر نکل آئے اور ٹرمپ نے ہمیں یہ احساس دلایا کہ اگر آپ کو مدد کرنے والے ہاتھ کی ضرورت ہے تو یہ وہی ہاتھ ہے جو آپ کے بازو کے سرے پر موجود ہے-

 

ٹیگس

May ۱۷, ۲۰۱۸ ۱۸:۴۵ Asia/Tehran
کمنٹس