• امریکی وزیرخارجہ کے ایران مخالف بیان پر یورپ اور روس کا شدید ردعمل

یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کی سربراہ نے ایٹمی معاہدے کے بارے میں امریکی وزیرخارجہ کے بیان کے جواب میں کہا ہے کہ یورپی یونین اس معاہدے میں باقی رہے گی اور اس معاہدے کا کوئی بھی متبادل نہیں ہے۔

یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے اپنے بیان میں جو یورپی یونین کی ویب سائٹ پر شا‏‏‏ئع کیا گیا ہے امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے ایران سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کی نام نہاد حکمت عملی بیان کئے جانے پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ  جوہری معاہدہ عالمی سطح پر ایک بڑی  سفارتی کامیابی ہے جس کی حفاظت ناگزیر ہے اور اس معاہدے کی بدولت ایران کی جوہری سرگرمیوں کو پُرامن رکھنے میں مدد مل رہی ہے-

فیڈریکا موگرینی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بالخصوص جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن اور دیگر فریقوں نے ایران کی شفاف کارکردگی کی تصدیق کی جبکہ آئی اے ای اے  نے بھی اب تک گیارہ مرتبہ ایٹمی معاہدے پر ایران کے کاربند رہنے کی تصدیق کی ہے-

  خاتون یورپی رہنما نے ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات کی بحالی کو عالمی برادری کا فرض قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور یورپ کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کی بحالی جوہری معاہدے کا ایک اہم جز ہے- 

ادھر روسی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی پالیسی کو بدلنے کے تعلق سے امریکا کو اپنی کوششوں میں ہمیشہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے- روسی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی حکام نے پابندیوں اور دھمکیوں کی روش اپنا کر پوری ایرانی قوم کو اپنے خلاف متحد کر لیا ہے-

روسی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ دیگر اقوام کی طرح ایران کے عوام بھی دھونس ودھمکی کی زبان کو توہین آمیز سمجھتے ہیں-

دیگر ملکوں منجملہ برطانیہ اور جرمنی نے بھی اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکی وزیر خارجہ کے بے بنیاد اور مخاصمانہ بیان پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے-

واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیؤ نے گزشتہ روز ایران سے متعلق امریکہ کی نام نہاد نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ علاوہ ازیں مائیک پومپیؤ نے ایران مخالف من گھڑت الزامات کو دوہرا کر یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ، ایران پر تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کرے گا- 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آٹھ مئی کو ایک بار پھر ایران اور جوہری معاہدے کے خلاف پرانے الزامات کو دہرا کر اس معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ کی علیحدگی کے ردعمل میں یورپی ممالک نے کہا ہے کہ وہ جوہری معاہدے پر قائم رہیں گے۔

ٹیگس

May ۲۲, ۲۰۱۸ ۱۱:۲۸ Asia/Tehran
کمنٹس