• بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مذمت

متعدد غیرسرکاری تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر مغربی یمن کی بندرگاہ الحدیدہ پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے حملے جاری رہتے ہیں تو پیرس کانفرنس کا انعقاد ناممکن ہوجائے گا

پندرہ بین الاقوامی انساندوستانہ تنظیموں نے فرانس کے صدر امانوئیل میکرون کو ایک خط لکھ کر ان سے درخواست کی ہے کہ وہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر دباؤ ڈالیں اور انہیں الحدیدہ بندرگاہ پر حملے کرنے سے باز رکھیں - ان تنظیموں نے کہا ہے کہ یمن سے متعلق انسان دوستانہ کانفرنس کا انعقاد جو جون کے آخر میں پیرس میں طے پائی ہے الحدیدہ بندرگاہ پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے حملے جاری رہنے کی صورت میں ناممکن ہوجائے گا - جن غیر سرکاری تنظیموں نے اس خط پر دستخط کئے ہیں ان میں انسانی حقوق کی یونینوں کی بین الاقوامی فیڈریشن ایف آئی دی ایچ ، ناروے میں پناہ گزینوں کی تنظیم این آر سی ، برطانیہ کی اکسفام اور ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم جیسی معروف تنظیمیں شامل ہیں  - اس درمیان اینٹی وار کمپیئن اسٹاپ دی وار نے بھی اپنے بیان میں الحدیدہ بندرگاہ پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ نے یمن کی جنگ کے آغاز سے اب تک سعودی عرب کو چار ارب چھے سو ملین پونڈ کے ہتھیار فروخت کئے ہیں جنھیں نہتے یمنی عوام کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے -

اینٹی وار کمپیئن اسٹاپ دی وار نے اپنے بیان میں امریکی صدر ٹرمپ اور ان کی قریبی اتحادی برطانوی وزیراعظم تھریسا مئے کو جنگ یمن میں شدت کا اصل ذمہ دار قراردیا ہے -

غیر سرکاری تنظیم سیو دی چلڈرن نے بھی الحدیدہ میں ممکنہ طور پرانسانی قوانین کی خلاف ورزی کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے انسان دوستانہ امداد کی ترسیل کو بحال رکھنے کے لئے الحدیدہ بندرگاہ کی سرگرمیاں جاری رہنے پر زور دیا ہے -

واضح رہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی فوجیوں نے یمن کی الحدیدہ بندرگاہ پر قبضہ کرنے کے لئے پچھلے ایک مہینے سے اپنی جارحانہ کارروائی شروع کررکھی ہے - لیکن یمنی فوج اور عوامی رضاکارفورس نے جارح طاقتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور ان کے سبھی حملوں کو ناکام بنایا ہے - اطلاعات ہیں کہ الحدیدہ کے جنوب میں سعودی عرب اور اس کی اتحادی فوجوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان ہوا ہے - الحدیدہ پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے حملے کا مقصد امریکی سازشوں کی تکمیل ہے کیونکہ امریکا اس  بندرگاہ پر قبضہ کرنے کے لئے خلیج فارس کے عرب ملکوں کو ایک حربے کے طور پر استعمال کررہا ہے - الحدیدہ بندرگاہ پر قبضہ کرکے امریکا اور سعودی عرب، یمن کے نہتے عوام پر مزید اقتصادی اور معاشی دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں-

Jun ۱۴, ۲۰۱۸ ۱۸:۰۷ Asia/Tehran
کمنٹس