• امریکہ میں صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف برہمی کا اظہار

بچوں کو ان کے والدین سے جدا کرنے کے سلسلے میں امریکی صدر ٹرمپ کی نئی امیگریشن پالیسیوں کے خلاف امریکہ میں شدید برہمی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوترش نے تارکین وطن بچوں کے بارے میں نئی امیگریشن پالیسی سے متعلق امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلے پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پالیسی سے بچوں کی نفسیات پر کوئی اثر نہیں پڑنا چاہئے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر زید رعدالحسین نے بھی جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں میکسیکو کی سرحد پر والدین سے مہاجر بچوں کو جدا کئے جانے سے متعلق امریکی صدر ٹرمپ کے اقدام کو ظالمانہ اور ناقابل قبول قرار دیا ہےامریکی کانگریس میں ڈیموکریٹ دھڑے کی رہنما نینسی پلوسی نے بھی ٹرمپ حکومت کی اس پالیسی کو ایک ہولناک جرم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ نے امیگریشن قوانین کو نظرانداز کیا ہے۔اس سلسلے میں امریکی صدر ٹرمپ کی مشیر کلیان کنوائے نے بھی کہا ہے کہ ایک باضمیر، ایک کیتھولک اور ایک ماں کی حیثیت سے ان کا کہنا ہے کہ بچوں کو ان کے والدین سے جدا کئے جانے کی پالیسی سے کوئی بھی راضی نہیں ہے۔امریکہ اور میکسیکو کی مشترکہ سرحد پرش تارکین وطن والدین سے بچوں کو جدا کئے جانے کی پالیسی کے خلاف احتجاج کا دائرہ وائٹ ہاؤس تک پھیل گیا ہے۔امریکی خاتون اول ملانیا ٹرمپ نے بھی  کہا ہے کہ والدین سے بچوں کی جدائی کے عمل سے وہ نفرت کرتی ہیں۔امریکہ کے سرحدی سیکورٹی اہلکار گذشتہ کئی ہفتوں سے ٹرمپ حکومت کی سخت گیر پالیسی پر عمل کرتے ہوئے معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے غیر قانونی طور پر امریکہ پہنچنے والے لوگوں کو گرفتار اور ان کے بچوں کو ان سے جدا کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا اقدام ہے جس پر عمل ہوتے دیکھ کر ہر ماں باپ اور بچہ گریہ کرتا نظر آتا ہے۔یہی نہیں بلکہ والدین سے جدا کئے جانے والے بچوں کو ریاست ٹیکساس میں ایک پرانے گودام میں رکھا جا رہا ہے اور رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ لوہے کی سلاخوں کے پیچھے بند بعض بچوں کی حالت غیر ہوتی جا رہی ہے اور وہ سخت حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔دوسری جانب میکسیکو کی سرحد پر امریکی پولیس کی کارروائی میں کم از کم پانچ مہاجر ہلاک ہو گئے۔ امریکہ کے مقامی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بی سی سی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی سرحدی پولیس نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکی پولیس نے میکسیکو کی سرحد سے تقریبا ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر تین گاڑیوں کو روکنے کی کوشش کی۔امریکہ میں یہ تمام واقعات ایسے میں رونما ہو رہے ہیں کہ میکسیکو کی سرحد پر پناہ گزینوں کے بارے میں حکومت امریکہ کی پالیسی کے خلاف ردعمل وسیع پہلو اختیار کرتا جا رہا ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کو پناہ گزینوں کا کیمپ نہیں بننے دیں گے۔ وہ اپنی اسی پالیسی کے تحت امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر حائل دیوار تعمیر کئے جانے کی ضرورت پر زور بھی دے رہے ہیں۔

Jun ۱۹, ۲۰۱۸ ۱۴:۴۴ Asia/Tehran
کمنٹس