• افغان طالبان سے براہ راست مذاکرات کی امریکی حقیقت

17 سالہ افغان جنگ میں پہلی بار امریکا افغان طالبان سے براہ راست مذاکرات پر راضی ہوگیا ہے اور وائٹ ہاؤس نے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کا حکم جاری کردیا ہے۔

نیویارک ٹائمز میں شائع رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی اعلیٰ قیادت سے کہا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کیے جائیں جس کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ امریکی اخبار کے مطابق افغانستان میں شروع ہونے والی امریکی و اتحادی جنگ کی 17 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایسا حکم سامنے آیا ہے اور لگتا ہے کہ 17 سالہ جنگ میں پہلی بار امریکی پالیسی تبدیل ہورہی ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق قبل ازیں طالبان امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر راضی تھے امریکا اس ضمن میں براہ راست مذاکرات کے بجائے افغان طالبان اور افغان حکومت کو آمنے سامنے لاکر مذاکرات کرنا چاہتا تھا لیکن طالبان افغان حکومت کو تسلیم ہی نہیں کرتے تھے اور انہیں مذاکرات میں شامل کرنے پر راضی نہیں تھے جس کی وجہ سے مذاکرات تعطل کا شکار رہے۔

واضح رہے کہ تقریبا 17 سال قبل امریکہ نے طالبان کو ختم کرنے کا بہانہ بنا کر افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور اس ملک کے بے گناہ عوام کا قتل عام کیا۔ عین اس وقت جب افغانستان پر امریکہ اپنے ہی ہاتھوں سے بنائے ہوئے طالبان کو ختم کرنے کے لئے افغان سرزمین میں فوجی کارروائی کر رہا تھا مبصرین نے واضح طور پر کہا تھا کہ یہ امریکہ کی ایک نئی چال ہے اس لئے کہ امریکہ طالبان کے نام پر فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اور ایسا ہی ہوا اور اب امریکہ نے اچھے اور برے طالبان کا نعرہ لگا کر افغانستان میں داعش کو فری ہینڈ دے دیا اورداعش اب اس ملک میں امریکی مفادات کے لئے کام کر رہا ہے اور دہشتگردوں کو داعش کے نام پر ایک مرتبہ پھر اکٹھا کرنے کی امریکہ کوشش کر رہا ہے۔ تاہم یہ سب پر روز روشن کی طرح واضح ہے کہ امریکہ کو کو افغان عوام نے شکست دی اور اسے اب افغانستان سے جانا ہی ہے۔

 

Jul ۱۷, ۲۰۱۸ ۰۸:۲۳ Asia/Tehran
کمنٹس