• ایران کے بارے میں ٹرمپ کی ہذیان گوئی

امریکا کی فیڈرل دستاویزات میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی سیاسی ٹیم کے تعلقات منافقین کے دہشت گرد گروہ ایم کے او سے بہت گہرے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے مضحکہ خیز بیان میں دعوی کیا ہے کہ ایٹمی معاہدے سے امریکا کے نکل جانے کے بعد ایران کافی حدتک بدل چکا ہے۔ ٹرمپ نے اس سے پہلے بھی دعوی کیا تھا کہ ایٹمی معاہدے سے امریکا کے نکل جانے کی وجہ سے ایران کے رویّے میں کافی تبدیلی آئی ہے اور علاقے میں اس کی سرگرمیاں بھی کم ہوئی ہیں۔
علاقے میں ایران کی سرگرمیاں اور رول کم ہونے کے بارے میں ٹرمپ کا مضحکہ خیز دعوی ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام نے بارہا اعلان کیا ہے کہ ایران علاقے کے ایک بااثر، طاقتور اور امن و استحکام کے ضامن ملک کی حیثیت سے ہمیشہ مظلوموں کی درخواست پر ان کی مدد کرتا رہا ہے اور وہ آئندہ بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں الجھے علاقے کے ملکوں کی مدد کرے گا اور اپنے اس اصولی موقف سے ذرہ برابر بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔
ایران نے عراق اور شام میں امریکا اور اس کے اتحادی ملکوں کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں سے جنگ میں ان ملکوں کی باضابطہ درخواست پر انہیں فوجی مشاورت فراہم کی ہے اور ابھی بھی کررہا ہے اور یہ وہ چیز ہے جو ٹرمپ کو بالکل نہیں بھاتی۔
شام اور عراق کی افواج نے پچھلے دنوں ایران کی فوجی مشاورت کی مدد سے اپنے اپنے ملکوں میں داعش کی بساط لپیٹ دی ۔ اس درمیان امریکا کی فیڈرل دستاویزات میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی سیاسی ٹیم کے تعلقات منافقین کے دہشت گرد گروہ ایم کے او سے بہت گہرے ہیں۔
ٹی وائی ٹی نیٹ ورک کی نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منافقین کے دہشت گرد گروہ ایم کے او کے ساتھ امریکی حکومت کے بہت ہی گہرے تعلقات ہیں۔ ان خبروں کے مطابق ایم کے او کے سرغنوں نے امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد جان بولٹن اور ٹرمپ کے ذاتی وکیل جیولانی سے دوہزار سترہ سے دوہزار اٹھارہ کے دوران کم سے کم پانچ بار ملاقات کی ہے۔
امریکا کی فیڈرل دستاویزات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ منافقین کے دہشت گرد گروہ کے عناصر کے ذریعے بھرے گئے فارم کے منظر عام پر آجانے سے جو امریکی وزارت قانون کے لئے پر کئے گئے تھے جان بولٹن اور جیولانی کے ساتھ ساتھ ٹرمپ کے دیگرقریبی ساتھیوں سے بھی منافقین کے دہشت گرد عناصر کے روابط ہیں۔
علاوہ ازیں اسی سال پیرس میں بھی منافقین کے اجلاس میں ٹرمپ کے قریبی مشیروں نے شرکت کی تھی۔ ایم کے او نامی منافقین کے دہشت گرد گروہ نے امریکا، برطانیہ اور صیہونی حکومت کی ایماء پر ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی سے اب تک سترہ ہزار شہریوں کو شہید کیا ہے جن میں اعلی سیاسی اور مذہبی شخصیات بھی شامل ہیں۔

Aug ۰۹, ۲۰۱۸ ۱۷:۳۸ Asia/Tehran
کمنٹس